والے دن کو پورا نہ کر پائے تھے کہ لغزش واقع ہوگئی(1)۔ غلطیاں کم کرو، عذرقبول کر واورخطاکومعاف کردوپس ایسے ہوجاؤجس سے خیرکی امیداوراس کے شرسے امان ہو۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کسی بھی فرمانبرداربندے سے نفرت نہ کرو، ہرعام وخاص کے لئے رحمدل ہو جاؤ، رشتہ داروں سے قطع رحمی نہ کرو، جورشتہ دار تم سے توڑے تم اُس سے جوڑواوراُن سے صلہ رحمی کرو اگر چہ وہ تم سے قطع تعلقی کرے اور جو تم پر ظلم کرے تم اُسے معاف کردو، یوں تم انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام اور شہدائے عظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے رفیق بن جاؤ گے ۔
بازار کم جایا کرو کیونکہ بازار والے کپڑے پہنے ہوئے بھیڑیے ہیں اوروہاں شریرجنات اورسرکش انسان ہوتے ہیں، جب تم بازار جاؤ توتم پرنیکی کا حکم اور بُرائی سے منع کرنالازم ہے اور وہاں تم برائی ہی دیکھوگے لہٰذا تم اُس سے کنارہ کشی کرواور یہ دعا پڑھو: ” اَشْهَدُاَنْ لَّااِلٰهَ اِلَّااللهُ وَحْدَهُ لَاشَرِيْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُيُحْيِيْ وَيُمِيْتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ وَّلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّابِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِیعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلاہے اس کا کوئی شریک نہیں، اُسی کے لئے بادشاہی ہے اور اسی کے لئے حمد ہے ، وہ زندگی اور موت دیتا ہے ، ہربھلائی اسی کے دسْتِ قدرت میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور نیکی کرنے کی طاقت اور بُرائی سے بچنے کی قوت بزرگ وبرتراللہتعالیٰ ہی کی طرف سے ہے ۔ “ ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ ” یہ دعا پڑھنے والے کے لئے بازار میں موجود ہر عجمی اور عربی کے حساب سے 10نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔ “ اور تم بازار جاؤ تووہاں بیٹھو نہیں بلکہ کھڑے کھڑے اپنا کام نمٹاؤ تمہارا دین سلامت رہے گا ۔
درہم کوخودسے دورنہ ہونے دیناکہ یہ تمہارے دل کومضبوط رکھتاہے ، میٹھے سے خودکونہ روکناکیونکہ یہ حلم میں اضافہ کرتاہے ، گوشت کھایاکرومگرہمیشہ نہیں اورنہ ہی40دن تک گوشت کا ناغہ کرناورنہ اِس سے تمہارے
________________________________
1 - اہلسنت وجماعت کے نزدیک انبیائے کرام کفروشرک اورعمداًگناہِ کبیرہ اورایسے ہی گناہِ صغیرہ سے ہمیشہ معصوم رہتے ہیں جونَبُوَّت کی شان کے خلاف ہیں۔ ہاں خطایابھول کرایساصغیرہ گناہ سرزدہوسکتاہے جس سے کہ شانِ نبوت میں فرق نہ آئے حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامسے جوکچھ ہواخطائے اجتہادکی وجہ سے تھامگرچونکہ نیکوں کی بھلائیاں بھی مقربین کے درجے کے لحاظ سے برائیاں ہوتی ہیں اس لئے ان خطاؤں کوبھی وہ حضرات گناہ فرمادیتے ہیں اورہم جیسے گنہگاروں سے ان جیسی خطاؤں کی پرسش نہیں ہوتی لیکن ان کے بلنددرجے کے لحاظ سے ان لغزشوں پربھی عتاب آجاتاہے یہاں بھی ایساہی ہوا۔ (تفسیرنعیمی، پ۱، بقرۃ، تحت الایہ: ۳۶، ۱ / ۲۶۲)