جانو اس سے تم شیاطین کو بھگادوگے ۔
دنیا ملنے پرہنسی اور خوشی کم کروبارگاہِ الٰہی میں تمہاری قوت بڑھے گی، آخرت کے لئے عمل کرواللہ عَزَّ وَجَلَّ دنیا کے معاملے میں تمہیں کافی ہوجائے گا، اپنی خلوت کواچھاکرلواللہعَزَّ وَجَلَّ تمہاری جلوت کواچھاکردے گا، اپنی خطا پر آنسوبہاؤرَفِیقِ اعلیٰ والوں میں شامل ہو جاؤگے ۔ غافل نہ ہوناکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ تم سے غافل نہیں ہوتااوراُس کے تم پر بہت سے حقوق اوراُس کی جانب سے کافی پابندیاں ہیں جنہیں اداکرناتم پرلازم ہے لہٰذاان سے ہرگز غافل مت ہونا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم سے غافل نہیں اورروزِ محشرتمہیں ان کا حساب بھی دینا ہے ۔ اگر کسی دنیاوی کام کا ارادہ ہو تو غور کرلو، اگر اسے اپنی آخرت کے موافق پاؤ توکَر گزرو ورنہ اس کام سے رُکے رہویہاں تک کہ دیکھ لیا جائے کہ کسی نے وہ کام کیاتھاتوکس طرح؟اوراُس نے اِس سے نجات کیسے حاصل کی؟اوراللہ عَزَّ وَجَلَّسے عافیت کاسوال کرواوراگرکسی اُخروی کام کا ارادہ ہو تواِس سے پہلے کہ شیطان تمہارے اور اُس کام کے بیچ رُکاوٹ بنے تم جلد اُس کام کو انجام دے دو۔
زیادہ کھانے والے مت بنناورنہ تم جتنا کھاؤ گے اتنا کام نہ کر سکوگے اور یہ ناپسندیدہ ہے اور نیت وبھوک کے بغیربھی نہ کھاؤ اور اپنے پیٹ کو ہر گز نہ بھرنا ورنہ تم بے جان لاش کی طرح پڑے رہوگے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر نہ کرسکوگے ۔ رنج وغم کثرت سے کرو کیونکہ مومن اپنے نامَۂ اعمال میں سب سے زیادہ رنج وغم کی ہی نیکیاں پائے گا۔ دوسروں کے مال میں لالچ سے بچو کیونکہ لالچ دین کو برباد کرنے والی شے ہے ، خواہش سے بچو کہ یہ دل کو سخت کرتی ہے ، دنیا کی حرص سے بچو کیونکہ یہ بروزِ قیامت لوگوں کو رسوا کرنے والی چیزوں میں سے ہے ۔ دل اور جسم کوخطاؤں اور گناہوں سے ، ہاتھوں کوظلم سے ، دل کوکینہ، دھوکادہی اورخیانت سے اور پیٹ کو حرام سے پاک رکھنے والے بن جاؤکیونکہ حرام سے پرورش پانے والا جسم جنت میں نہیں جائے گا۔ لوگوں سے اپنی نگاہوں کو باز رکھو، بلاضرورت چلونہ بلاحکمت بات کرواوراُس شے کی طرف ہاتھ مت بڑھاؤجو تمہاری نہیں۔
اپنی باقی ماندہ عمر کے بارے میں خوف وغم رکھو، تم نہیں جانتے کہ آئندہ زندگی میں تمہارے دین کے معاملے میں کیانئی چیزپیداہوجائے ۔ خودکوکسی امانت کانگہبان مت بناؤ، تم امانت کی نگہبانی کیسے کرسکتے ہوجبکہ (قرآنِ کریم میں)اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہیں ” ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ(۷۲)یعنی اپنی جان کومشقت میں ڈالنے والابڑانادان۔ (پ۲۲، الاحزاب: ۷۲) “ فرمایاہے اورتمہارے والدحضرت سیِّدُناآدمعَلَیْہِ السَّلَاماس میں برقرارنہ رہ پائے اورامانت اٹھانے