جہاد کے ساتھ دیگر فرائض :
(9743)…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن داؤدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، آپ نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا ذکر کیا تو گویا اُن پرایک طرح سے ترکِ جہاد کا عیب لگاتے ہوئے فرمایا: یہ عبْدُالرحمٰن بن عَمْرواوزاعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی ہیں جو اُن سے عمرمیں زیادہ ہونے کے باوجود جہاد میں شریک ہوتے ہیں۔ میں نے حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے عرض کی: اُن کے جہاد میں شریک نہ ہونے کی کیا وجہ تھی؟آپ نے بتایا: وہ فرمایا کرتے تھے کہ ” اب جہاد میں شرکت کرنے والے دیگرفرائض کوضائع کردیتے ہیں۔ “
(9744)…حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن مہدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیحدیث شریف کا درس دیا کرتے تھے ۔
لیڈری علم کے لئے نقصان دہ ہے :
(9745)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: جوشخص جلد سربراہ ولیڈر بن جاتا ہے وہ بہت سارا علم ضائع کرتا ہے اور جو سربراہ نہ بنے وہ علم پڑھتا اور پڑھاتاہے یہاں تک کہ علم میں پختہ ہو جاتاہے ۔
(9746)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: قیامت کے دن ایک شخص کو جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا تو کہا جائے گا : ” اس کے گھر والے اس کی نیکیاں کھا گئے ۔ “
آباواولاد سے حُسنِ سلوک:
(9747)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن یمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کابیان ہے کہ میں مَکۂ مکرمہ کے لئے روانہ ہوا تو حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے بیٹے سعید نے مجھ سے کہا: میرے والد کومیرا سلام دیجئے گا اوران سے کہئے گاکہ وہ گھرآجائیں۔ میں جب مکہ میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے ملا تو آپ نے پوچھا: سعیدکا کیا حال ہے ؟ میں نے کہا: نیک بچے نے آپ کو سلام بھیجا ہے اورپیغام دیاکہ آپ گھر آجائیں ۔ یہ سنتے ہی آپ گھر جانے کے لئے تیار ہوگئے اورفرمایا: اگلے لوگوں کو نیکوکاراسی لئے کہاگیا کیونکہ انہوں نے اپنے آبا اور اولاد کے ساتھ بھلائی ونیک سلوک کیاتھا۔