Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
111 - 361
 ضروری تھا میں اِسی کے لئے گیا تھا ۔ 
(9739)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ  جب حضرت سیِّدُنا دانیال عَلَیْہِ السَّلَام کو درندوں کے ساتھ کنویں میں ڈالاگیاتوآپ بارگاہِ الٰہی میں عرض گزار ہوئے :  اے میرے معبود!ہماری قوم کی شرمندگی وعیب والی باتوں کے سبب تو نے ہم پر اُس شخص(بخت نصر)کو مسلط کر دیا جو تجھے نہیں جانتا۔ 
کوثانی عابد کی نصیحت: 
(9740) حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: میں کوفہ کے  ” کَوثانی “ نام کے عبادت گزار کو  20سال سے تلاش کررہاتھا مگر ان تک پہنچ نہ سکا۔ ایک دن میں فرات کے کنارے سے گزرا تووہاں چندلوگ مٹی سے  کچھ بنانے میں مصروف تھے ، ان میں سے ایک شخص باآوازِ بلند ” اے کوثانی! اے کوثانی! “ کہنے لگا تو میں نے بھی آواز لگائی:  ” اے کوثانی! “ تو وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے :  تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میں سفیان ثوری ہوں۔ وہ بولے :  تمہیں کیا کام ہے ؟ میں نے کہا:  مجھ سے کچھ بات کیجئے ۔ انہوں نے کہا: سفیان! ہم ہر خیر کی امید اپنے رب تعالیٰ سے رکھتے ہیں اورہمارے رب عَزَّ  وَجَلَّ کا ہمیں کسی شے سے منع کردینا بھی ہمارے لئے  ” عطا “  کی حیثیت رکھتا ہے ۔ پھر وہ چلے گئے ۔ 
درہم ودینار سے نفرت رکھو: 
(9741)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: مجھے ایک نیک شخص نے بتایاکہ  میں نے خواب میں سیاہ وسفید بالوں والی ایک بڑھیا دیکھی جو ہر قسم کے زیور سے آراستہ تھی۔ میں نے اُس سے کہا:  تُو کون ہے ؟ اس نے کہا: میں دنیا ہوں ۔ میں نے کہا: میں تیرے شر سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ چاہتا ہوں۔ اِس پر وہ بولی: اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ تمہیں میرے شر سے پناہ عطا فرمائے تو تم درہم ودینار سے بغض و نفرت رکھو۔ 
(9742)…حضرت سیِّدُنا محمد بن یزید بن خُنَیْس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیاکثریہ دعاکیاکرتے تھے :   ” اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اس اُمَّت کے لئے ہدایت کامعاملہ پختہ فرماجس میں تیرے دوست کوعزت دی جائے ، تیرے دشمن کو ذلیل کیا جائے اورتیری فرمانبرداری اور رضا والے اعمال کئے جائیں۔  “ پھر آپ سانس لے کر فرماتے :  کتنے ہی مومن بندے دینی غصہ کے سبب مرچکے ۔