(9729)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ہم نے ایسے بدمعاش وشریر لوگ بھی دیکھے ہیں جو اپنی مروت کی حفاظت اس دور کے اہْلِ علم سے زیادہ کرتے ہیں۔
(9730)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: دنیا میں پہنچنے والی مصیبتوں میں لوگوں کا کیا نقصان ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں جنت دے کر ہر مصیبت کی تلافی فرمادے گا۔
حُسنِ ادب کا کمال:
(9731)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: منقول ہے کہ حسنِ ادب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے غضب کو بجھادیتا ہے ۔
(9732)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: جو دنیا سے محبت کرتا اور اس پر خوش ہوتا ہے اس کے دل سے آخرت کا خوف نکال دیا جاتا ہے ۔
بہترین اور بدترین لوگ:
(9733)… حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: پہلے دین میں حکمرانوں کے نزدیک بہترین، مُعَزز اورمنظورِنظر افراد وہ ہوتے تھے جو ان کے پاس جا کر انہیں نیکی کا حکم کرتے اور بُرائی سے منع کرتے تھے اور جو گھروں میں رہتے وہ ان کے نزدیک ایسے نہ تھے لہٰذاانہیں کوئی مرتبہ دیا جاتا نہ اُن کا تذکرہ ہوا کرتا۔ پھر ہمارا دور آیا کہ اب حکمرانوں کے پاس جاکر انہیں نیکی کا حکم کرنے اور بُرائی سے منع کرنے والے بدترین لوگ ہو گئے اورجو اپنے گھروں میں پڑے رہیں اور یہ فریضہ ادا کرنے ان کے پاس نہ جائیں وہ بہترین لوگ ہوگئے ۔
(9734)…حضرت سیِّدُنامحمد بن یوسف فِریابِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے ساتھ تھا، ہم سِری کھانے کے لئے بیٹھے تو ایک شخص نے کھانے پر پانی طلب کیا، حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: سری پر پانی پیناناپسندیدہ سمجھا جاتاتھا۔ ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ آپ نے بھی پانی طلب کیا تو اُس شخص نے کہا: ابو عبداللہ! کیا آپ نے ابھی یہ نہیں فرمایا کہ ” سری پر پانی پیناناپسندیدہ سمجھا جاتاتھا۔ “ اِ س پر ارشاد فرمایا: جو جس شے سے بچتا ہے اسی میں جا پڑتاہے ۔