اس کے پاس پہنچ جائے گی۔
دائمی خوف والے دل:
(9722)…حضرت سیِّدُنابشربن منصور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفُوْرکا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ ذیشان:
یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًاؕ-وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ(۹۰) (پ۱۷، الانبیآء: ۹۰) ترجمۂ کنز الایمان: ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں۔
کی تفسیرمیں فرمایا: مطلب یہ کہ ہمارے انعام کی امید اور ہمارے عذاب کے خوف سے ہمیں پکارتے تھے اور اُن کے دل میں ہمیشہ رہنے والا خوف ہے ۔
(9723)…حضرت سیِّدُنامِہْران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اِس فرمانِ باری تعالیٰ:
لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ (پ۱۶، طٰہٰ: ۱۳۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلااسکی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لئے دی ہے جیتی دنیا کی تازگی۔
کے تحت فرمایا: اِس میں رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تسلِّی دی گئی ہے ۔
بڑی گھبراہٹ:
(9724)…حضرت سیِّدُناابو داؤد حَضْرمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ:
لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ (پ۱۷، الانبیآء: ۱۰۳) ترجمۂ کنزالایمان: انھیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ۔
کی تفسیر میں فرمایا: جب آگ جہنمیوں کو ڈھانپ لے گی۔