Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
106 - 361
وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ(۹۰) (پ۱۷، الانبیآء: ۹۰)	ترجمۂ کنز الایمان:  اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں۔
	کے تحت فرماتے ہیں: گڑگڑانے سے مراد دل میں ہمیشہ رہنے والا خوف ہے ۔ 
ربّ تعالٰی کی عطائیں: 
(9719)…حضرت سیِّدُنا محمدبن حمید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدکابیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اِ س فرمانِ باری تعالیٰ: 
اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ(۱۵) اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ(۱۶) (پ۲۶، الذٰریٰت: ۱۵، ۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں ہیں اپنے رب کی عطائیں لیتے ہوئے بے شک وہ اس سے پہلے  نیکو کار تھے ۔
	کی تفسیر میں فرماتے ہیں: عطائیں لینے سے فرائض کاثواب  لینامرادہے اورنیکوکارسے مرادہے نفلی عبادت کرنے والے ۔ 
جنتیوں کی شان وشوکت: 
(9720)…حضرت سیِّدُنا عُبَیْدبن سعیداَشجَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اِس آیتِ طیبہ: 
وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا(۲۰) (پ۲۹، الدهر: ۲۰)	ترجمۂ کنزالایمان: اورجب توادھرنظراٹھائے ایک چین دیکھے اور بڑی سلطنت ۔
	کے تحت فرماتے ہیں: ایسی شان وشوکت والی سلطنت کہ فرشتے بھی اجازت لے کر آئیں گے ۔ 
(9721)…حضرت سیِّدُنااشجعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی قرآنِ کریم کی اِس آیتِ مبارکہ: 
دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ (پ۱۱، یونس: ۱۰)                               ترجمۂ کنز الایمان: ان کی دعا اس میں یہ ہوگی کہ اللہ تجھے پاکی ہے ۔
	کی تفسیر میں فرماتے ہیں :  جب کوئی جنتی شخص کچھ مانگنا چاہے گا تو  ” سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ “ کہے گا اور مطلوبہ شے