وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ(۹۰) (پ۱۷، الانبیآء: ۹۰) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں۔
کے تحت فرماتے ہیں: گڑگڑانے سے مراد دل میں ہمیشہ رہنے والا خوف ہے ۔
ربّ تعالٰی کی عطائیں:
(9719)…حضرت سیِّدُنا محمدبن حمید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدکابیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اِ س فرمانِ باری تعالیٰ:
اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ(۱۵) اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ(۱۶) (پ۲۶، الذٰریٰت: ۱۵، ۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں ہیں اپنے رب کی عطائیں لیتے ہوئے بے شک وہ اس سے پہلے نیکو کار تھے ۔
کی تفسیر میں فرماتے ہیں: عطائیں لینے سے فرائض کاثواب لینامرادہے اورنیکوکارسے مرادہے نفلی عبادت کرنے والے ۔
جنتیوں کی شان وشوکت:
(9720)…حضرت سیِّدُنا عُبَیْدبن سعیداَشجَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اِس آیتِ طیبہ:
وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا(۲۰) (پ۲۹، الدهر: ۲۰) ترجمۂ کنزالایمان: اورجب توادھرنظراٹھائے ایک چین دیکھے اور بڑی سلطنت ۔
کے تحت فرماتے ہیں: ایسی شان وشوکت والی سلطنت کہ فرشتے بھی اجازت لے کر آئیں گے ۔
(9721)…حضرت سیِّدُنااشجعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی قرآنِ کریم کی اِس آیتِ مبارکہ:
دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ (پ۱۱، یونس: ۱۰) ترجمۂ کنز الایمان: ان کی دعا اس میں یہ ہوگی کہ اللہ تجھے پاکی ہے ۔
کی تفسیر میں فرماتے ہیں : جب کوئی جنتی شخص کچھ مانگنا چاہے گا تو ” سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ “ کہے گا اور مطلوبہ شے