لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ- (پ۲۹، الملك: ۲) ترجمۂ کنز الایمان: کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے ۔
کی تفسیر میں فرمایا: مراددنیا سے بے رغبتی اختیار کرناہے ۔
تقدیر غالب آگئی:
(9715)…حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان:
رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا (پ۱۸، المؤمنون: ۱۰۶) ترجمۂ کنزالایمان: اے ہمارے ربّ ہم پرہماری بدبختی غالب آئی۔
کے تحت فرمایا: یعنی تقدیر غالب آگئی ۔
(9716)…حضرت سیِّدُنا ضمرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان:
فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ(۱۰) (پ۳۰، الطارق: ۱۰) ترجمۂ کنزالایمان: توآدمی کے پاس نہ کچھ زورہوگانہ کوئی مددگار۔
کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یعنی خاندانی قوت ہوگی نہ کوئی اتحادی مددگار ۔
صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر سلامتی کا نزول:
(9717)…حضرت سیِّدُناابو عاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ ذیشان :
وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰىؕ (پ۱۹، النمل: ۵۹) ترجمۂ کنز الایمان: اور سلام اس کے چنے ہوئے بندوں پر۔
کے تحت فرمایا: یہاں مراد حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانہیں۔
(9718)…حضرت سیِّدُناضمرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان: