جس پر دین میں مجھے اعتماد ہے ۔
گوشت خور گھرانہ:
(9706)…حضرت سیِّدُنا اسماعیل بن عَمْروبَجَلِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے اِس حدیث شریف کے متعلق سوال ہوا: ” اِنَّ اللهَ يُبْغِضُ اَهْلَ الْبَيْتِ اللَّحْمِيِّيْنَ یعنی بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ گوشت خور گھرانے کو پسندنہیں فرماتا۔ “ (1)تو انہوں نے فرمایا: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو انسانوں کا گوشت کھاتے (یعنی غیبت کرتے ) ہیں۔
موت میں شماتت نہیں:
(9707)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے دروازے پر آکرآپ کے گھر والوں کو ایذا دیتا اور پریشان کیا کرتا تھا۔ کسی نے آپ کو خبردی کہ وہ شخص مر گیا ہے ۔ توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: موت میں شماتت نہیں (یعنی مرنے پر اظہارِ مسرت نہ کرو) سنو!کیا تم جانتے ہو کہ اُس نے کوئی مال حاصل کیا یا اس کے ہاں کوئی لڑکا پیدا ہوا یااُسے کوئی عہدہ دیا گیا ہو۔
خفیہ تدبیر کا خوف:
(9708)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام سے اُ س مقام میں جہاں وہ اُس کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں فرمایا: قریب ہوجاؤ۔ تو وہ قریب ہوئے پھر تھرتھرکانپنے لگے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّنے پھرفرمایا: اورقریب ہوجاؤ۔ وہ اورقریب ہوئے پھرتھرتھرکانپنے لگے ، باری تعالیٰ نے پھرفرمایا: مزیدقریب ہوجاؤ۔ وہ مزیدقریب ہوگئے پھرتھرتھرکانپنے لگے تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشادفرمایا: تمہاری یہ کیاحالت ہے ؟کیامیں نے تمہیں مُعَززنہ کیا؟کیامیں نے تمہیں امان نہ دی؟کیامیں نے تمہیں رسول نہ بنایا؟اِس پرحضرت سیِّدُناجبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی: بالکل ایساہی ہے لیکن میں تیری خفیہ تدبیرسے بے خوف نہیں۔
حقوق کی فکر:
(9709)…حضرت سیِّدُنامبارک بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے بھائی حضرت سیِّدُنا
________________________________
1 - المجالسة وجوھرالعلم، ۲ / ۸، حدیث: ۱۱۷۴