حاضری والے مقدس مقامات پرجاؤتوہمارے لئے دعاکرنااورواپسی پرہماری طرف سے ہوتے ہوئے جانا۔ پھرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبغیرکسی زادِراہ اورہمفسرکے وہاں سے روانہ ہوگئے ۔ حضرت سیِّدُناجبررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: میں نے (مکہ آنے والے )ایک گروہ سے آپ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا: حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فلاں دن اچانک ہم سے ملے ، انہوں نے عیدکی نمازکوفہ میں ادا کی، اپنے بیٹے سے عیدہ گاہ ہی میں ملاقات کی اور اپنے گھر چلے گئے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو(اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ امین)۔
دن ہے یا رات:
(9702)…حضرت سیِّدُناعبد الرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا وصال ہوا تو خلیفہ کی وجہ سے ہم نے ان کی تدفین رات میں کرنا چاہی لہٰذا ہم انہیں لے کر نکلے تو( لوگوں کی کثرت کے باعث)پتا نہیں چلتا تھا کہ دن ہے یا رات ۔
(9703)…حضرت سیِّدُنا حسن بن علی حُلْوانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا محمد بن عُبَیْد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا: ” کیا حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی کوئی زوجہ بھی تھیں؟ “ تو انہوں نے فرمایا: ” ہاں، میں نے ان کے بیٹے کو دیکھا تھا جسے اس کی والدہ نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس بھیجا تھا تو وہ آکر آپ کے سامنے بیٹھے گیا۔ آپ نے اُس سے فرمایا: کاش! مجھے تیرے جنازے کے لئے بلایا گیا ہوتا ۔ “ میں نے حضرت سیِّدُنامحمد بن عُبَیْد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا: ” کیا وہ بچے کی وفات تک زندہ رہے ؟ “ تو فرمایا: ” ہاں۔ “
دوستیاں لگانے سے دوری:
(9704)…حضرت سیِّدُنا یوسف بن اَسْباطرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے ساتھ مسجد میں بیٹھا تھا، آپ نے فرمایا: کیا تم ان لوگوں کو دیکھ رہے ہو مجھے ان سے دوستیاں لگانا روپے میں سے چارآنے بھی خوش نہیں کرتا ۔
(9705)…حضرت سیِّدُنا معدان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان بیان کرتے ہیں کہ میں کوفہ سے مکہ مکرمہ جاتے وقت حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا ہم رکاب تھا، جب کوفہ پیچھے رہ گیا توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں نے اپنے پیچھے کوئی ایسا نہیں چھوڑا جس پر مجھے اعتماد ہواور نہ ہی میں کسی ایسے پر پیش قدمی کروں گا