Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد: 7)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
101 - 361
نفل پر فرض کو ترجیح: 
(9701)…حضرت سیِّدُنامحمدبن عِصام جَبْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مِکۂ  مکرمہ میں مقیم تھے ، میرے والد ماجد نے آپ سے اجازت چاہی کہ وہ حاجیوں کے ساتھ اپنے گھرجارہے ہیں اورموسِمِ حج میں واپس آجائیں  گے ۔ پھرجب حاجیوں کے قافلے روانہ ہوئے تو میرے والد صاحب کوفہ کے راستے سے نکلے تاکہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے گھرسے ہوتے ہوئے جائیں۔ چنانچہ اُن کے گھروالوں سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے کافی سارے پیغامات دیئے ، آپ کا بیٹا محمد جو کافی ہوشیار ہوچکا تھا اور10سال کاتھا۔ حضرت جَبْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجب وہاں سے روانہ ہونے لگے تواُس بچے نے اُن سے کہا: میرے  والدکومیراسلام کہئے گا اورپیغام دیجئے گا کہ  ” گھر آجائیں، مجھے ان سے ملنے کی بہت تمنا ہے ۔  “ 
	 جب حضرت سیِّدُنا جبر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مکہ مکرمہ پہنچے اور طواف سے فارغ ہو کر حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس آئے تووہ لوگوں کے مجمع میں حدیث بیان کر رہے تھے ، جب ان کی نظر حضرت سیِّدُنا جبر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر پڑی تو خوش ہو گئے اور اُن سے باتیں پوچھنے لگے ، اِسی دوران حضرت سیِّدُنا جبر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان کے گھر والوں اور بیٹے کاپیغام پہنچایاتو وہ مجلس سے اٹھ کھڑے ہوئے ، بَیْتُاللہ کا طواف کیا ، مقام ابراہیم پر نفل پڑھے اور بَیْتُاللہکو الوداع کہہ کر وادیٔ ابطح کی جانب چلے گئے جبکہ لوگ آپ کے پیچھے پیچھے تھے ، آپ نے حضرت سیِّدُناعصام جبر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے فرمایا:  ” اے عصام! ان لوگوں کو مجھ سے دور کر و کیونکہ آج میں انہیں حدیث بیان نہیں کروں گا۔  “ کافی تگ ودوکے بعد طالبانِ حدیث چلے گئے ۔ 
	جب تنہائی میسرآئی توحضرت سیِّدُناجبررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے عرض کی: کہاں جانا چاہتے ہیں؟ فرمایا:  اِنْ شَآءَ اللہ! اپنے گھرجاناچاہتاہوں۔ انہوں نے عرض کی: ایک دن بعدیومِ تَروِیحہ ہے ، اس کے بعدحَجِ اکبرکادن اوریومِ نحر ہے ، آپ یہ سب چھوڑکرجاناچاہتے ہیں؟پھریہ کہ لوگ  آپ سے علم حاصل کرناچاہتے ہیں توجس نے اِس علم میں سے کسی ایک بات پرعمل کرلیاآپ کوبھی اجرملتارہے گا۔ اس پرآپ نے فرمایا: میں اِس چیزکوتم سے زیادہ جانتاہوں  مگر تم میرے پاس ایک ایسی ذمہ داری لائے ہوجس کا پورا کرنا مجھ  پر واجب ہے اور اب تم مجھے نفلی کام کرنے اور فرض کوضائع کرنے کاکہہ رہے ہو، اب میں اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے بے چین ہوں۔ پس تم جب عرفات اور