{12} فِلْم ایڈیشن،فِلمیصَفْحَہ ، فلموں، اسٹیج ڈراموں اورمیوزیکل پروگراموں ،ناجائز چیزوں اورناجائز کاموں وغیرہ کے گناہوں بھرے اشتہارات دینے سے کُلّی طور پر لازِمی اجتِناب (یعنی پرہیز)کیاجائے۔
{13} اِلیکڑانک میڈیا کے گناہوں بھرے پروگراموں کی فِہرس شائع نہ کی جائے۔
{14} شَرْعی طورپر جُرم ثابت ہوجانے کی صورت میں بھی چُونکہ شخصِ مُعَیَّن کی بِلامَصلَحَت خبر مُشتَہَر کرنے کی شَرْعاً اجازت نہیں لہٰذا اُس کی پردہ پوشی کی جائے اورمُمکِنہ صورت میں نجی طورپر نیکی کی دعوت کے ذَرِیعے ایسے مجرم کی اِصلاح کی صُورت نکالی جائے۔ ڈھندورا پیٹنے اور اخباروں میں خبریں چمکانے سے سُدھار کے بجائے اکثر بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور بسااوقات ضِد میں آکر ’’ چھوٹا مجرِم ‘‘ بڑے مجرم کا رُوپ دھار لیتا ہے !
{15} جانداروں کی تصویریں نہ چھاپی جائیں(جوعُلمائِ کرام مووی اور تصویر میں فرق کرتے ہوئے مُووی کو جائز کہتے ہیں انہیں کے فتوے پر عمل کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی’’ مَدَنی چینل ‘‘کے ذَرِیعے دُنیا بھر میں اسلام کی خدمت کرنے میں کوشاں ہے)
{16}بہتر یہ ہے کہ اخبار میں آیات ِ قُراٰنیہ اور ان کا ترجَمہ نہ چھاپا جائے کیوں کہ جہاں آیت یا اس کا ترجَمہ لکھا ہو وہاں اور اُس کے عین پیچھے بِغیر طہارت کے چُھونا حرام ہے اور اکثر لوگ بے وُضو اخبار پڑھتے ہوں گے اور مسئلہ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے چُھونے کے گناہ میں پڑ تے ہوں گے۔