میں تحریر سے دِیں کا ڈنکا بجادوں
عطا کر دے ایسا قلم یاالٰہی
(وسائلِ بخشش ص۸۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اخبارکے دفتر میں کام کرنا کیسا؟
سُوال: گناہوں بھرے اخبار کے دفتر میں کام کرنا اور اخبار کی چھپائی وغیرہ میں مُعاوَنَت کرنا کیسا؟ تنخواہ جائز ہوگی یاناجائز؟
جواب: گناہوں بھرا اخبار مکمَّل طورپر گناہوں بھرا نہیں ہوتا، اس میں جائز تحریرات بھی شامل ہوتی ہیں، اگر صِرْف جائز مَضامین کی نوکری ہے تو جائز اور اِس کی تنخواہ بھی جائز اور اگر ناجائز کام ہی کرنا پڑتا ہے تو نوکری بھی ناجائز اور تنخواہ بھی ناجائز ۔ اگر دونوں طرح کے کام کرنے پڑتے ہیں تو جتنا جائز کام کیا اُس پر ملنے والی اُجرت جائز اور جتنا ناجائز کام کیا اتنی اُجرت ناجائز۔ مذکورہ دفتر میں ایسا کام کرنا جائز ہے جس میں گناہ میں کسی طرح سے مدد نہ کرنی پڑتی ہو۔ مَثَلاً چوکیداری وغیر ہ ۔
اخبار بیچنا کیسا؟
سُوال:اَخباربیچناجائزہے یانہیں؟
جواب:وہ اخبار جو بُنیادی طور پر خبروں پر مشتمل ہولیکن کچھ حصّہ ہر قسم کے اشتہارات پربھی مشتمل ہو ان کا بیچنا اخبار فروشوں کیلئے جائز ہے اورآمدنی بھی حلال ہے جبکہ جو اخبار بنیادی طور پر فلموں یا ناجائز کاموں کی تشہیر ہی کیلئے ہوں ان کا بیچنا