کہ اِس کا ایک نقصان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قارِئین اُس بدمذہب سے متعارِف ہونے کے ساتھ ساتھ اُس کی شخصیَّت سے مُتأَثِّرہو سکتے ہیں جو کہ ایمان کیلئے زَہرِ ہَلاہَل ہے۔ یاد رہے! فساد ِ عقیدہ فسادِ عمل سے بَدَرَ جہا بد ترہے۔
{7} کسی ’’ سیاسی پارٹی‘‘ سے گٹھ جوڑ کر کے اُس کے ماتَحْت نہ رہا جائے کہ جھوٹی خوشامد ، فریقِ مخالِف کی بے جا مخالَفَت، عیب دَری،الزام تراشی اور مسلمانوں کی اِیذا رَسانی وغیرہ وغیرہ گناہوں سے بچنا قریب بہ ناممکن ہوجائے گا اور ماتَحْتی کے باعث ایسے اخبارکی ’’ آزادیِ صَحافت ‘‘ خود بخود خَتْم ہو جائیگی!!!
{8} اُن خبروں اور بیانات کی اِشاعت نہ کی جائے جن سے مسلمانوں میں انتِشار ہو یا وطنِ عزیز کے وقار کو ٹھیس پہنچے ۔
{9}مُلکی رازا ِفْشا نہ کئے جائیں۔
{10} قَلَم تخریبی نہیں صِرْف و صِرْف تعمیری انداز میں چلایا جائے اور تحریروں کے ذَرِیعے مسلمانوں کو نیک کام اور غیر مسلموں کودینِ اسلام کے قریب کیا جائے۔
{11} اپنے اخبار سے مُنْسَلِک اَجِیر صحافیوں پر تحائف اورخُصُوصی دعوتیں قَبول کرنے کے حوالے سے پابندی رکھی جائے کہ اکثر صورَتوں میں یہ رشوتیں ہوتی ہیں اور اِن کی وجہ سے بسا اوقات مُرَوَّتاً گناہوں بھرے بیانات وغیرہ کی اشاعت کرنی پڑجاتی ہے!