Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
55 - 59
ان خطرات سے بچنے کیلئے16 مَدَنی پھول (جن میں ضِمناً  مُلکِ پاکستان کی قانونی شِقیں بھی شامل ہیں) قَبول فرمایئے۔
{1}مُدیر پارسا و مُحتاط عالمِ دین ہو یا باعمل عُلَمائِ کرام کی مجلس کے ماتَحْت کام کرنے والا۔
{2} عُلَمائے کرام ہرہر خبر ، مُراسَلہ ، نظم،کالم، آرٹیکل اور اشتہار وغیرہ بنظرِ غائِر اوّل تا آخِر پڑھ کر ، تنقیح و تفتیش فرما کر اجازت بخشیں تب اخبار ( یا ماہنامہ وغیرہ) اشاعت کیلئے پریس میں جائے۔
{3} کسی فردِ مُعَیّن یابرادری کی مَذَمَّت عیب دری اور اِیذا رَسانی پر مشتمل خبریں بِلااجازتِ شَرْعی شائِع نہ کی جائیں۔ 
{4} ایسا شخص جس کے شَر سے مسلمانوں کو بچانا مقصود ہو اور فتنے اور امْنِ عامّہ میں خَلل کا اندیشہ نہ ہو توثواب کی نیّت سے اُس کا نام اوراُس میں موجود صرف خاص اُس خرابی کی اِشاعت کر دی جائے جو مسلمانوں کیلئے مُضِر ہو۔ فرمانِ مصَطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہے:کیا فاجِر کے ذِکر سے بچتے ہو اُس کو لوگ کب پہچانیں گے!فاجِر کا ذکر اُس چیز کے ساتھ کرو جو اُس میں ہے تاکہ لوگ اس سے بچیں۔
 (اَلسّنَنُ الکُبری لِلْبَیْہَقی  ج۱۰ ص۳۵۴ حدیث  ۲۰۹۱۴)
{5} کسی شخصِ مُعَیَّن کی کامیاب یا ناکام خودکُشی کی خبر نہ شائِع کی جائے۔
{6} کسی بدمذہب کا بیان یا مضمون وغیرہ شَرْعی اَغلاط سے پاک ہو تب بھی نہ چھاپا جائے