شکریہ کے ساتھ رُجوع کرتا پائیں گے۔ بے شک میں مانتا ہوں کہ بے راہ رَوی کا دَور دَورہ ہے اور پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے اِس لئے شاید میری یہ التجائیں صد ابَصَحرا بن کر ہی رہ جائیں اور یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ کوئی نادان دوست، اَدھوری باتیں سُن کریا سُنی سنائی باتوں میں آکر مجھ سے’’روٹھ‘‘ ہی جائے۔ ایسوں کیلئے میں صِرْف کسی کایہ شعر ہی پڑھ سکتا ہوں: ؎
ہم ’’دعا‘‘ لکھتے رہے وہ’’دغا‘‘ پڑھتے رہے
ایک نُقطے نے ہمیں ’’ مَحرم‘‘ سے’’مُجرم‘‘ کر دیا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اخبار کیسا ہونا چاہئے
سُوال:اخبار نکالنا جائز ہے یا نہیں؟ اگرجائز ہے تو اخبار کیسا ہونا چاہئے ؟ اِس کی اشاعت کیلئے کچھ مَدَنی پھول دے دیجئے۔
جواب: اخبار نکالنا جائزہے ۔ مسلمان ہر مُعامَلے میںشَرْعی اَحکامات کے ماتَحْت ہے اور اخبار کے مُعامَلے میں بھی اسے شَریعت کی پاسداری کرنی ہوگی۔ خبردار! اخبار کا مُعاملہ نہایت نازُک ہے، معمولی سی بے احتیاطی مسلمانوں کو فتنہ وفساد ، آپَسی بُغض و عِناد ، گناہ و مَعاصی بلکہ گمراہی واِلْحاد کے غار میں دھکیل کر برباد کر سکتی ہے اور اس کا اُخْرَوی وَبال اخبار کے مالِکان و ذمّے داران پر آسکتا ہے ۔