کچھ نیکیاں کمالے جلد آخِرت بنالے
کوئی نہیں بھروسا اے بھائی! زندَگی کا
(وسائلِ بخشش ص۱۹۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صَحافی کہیں آپ کے مُخالِف نہ ہو جائیں
سُوال:آپ کو لگتا نہیں کہ آپ کے اِس طرح کے جوابات سے صَحافی حضرات آپ کے مخالِف ہو جائیں گے؟
جواب:میں صِرْف اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والے مسلمانوں سے مخاطِب ہوں، میں نے جو کچھ عرض کیا ہے میرا حُسنِ ظن ہے کہ قلبِ سیلم رکھنے والا ہر باضَمیر صَحافی اُس کو دُرُست تسلیم کریگا۔ میں نے ملک و ملّت اور آخِرت کی بھلائی کی باتیں ہی تو عرض کی ہیں، جب شریعتِ اسلامیہ سے ہٹ کربلکہ مُلکی قانون کے بھی خلاف کوئی کلام نہیںکیا تو کوئی مسلمان صَحافی مجھ سے کیوں اِختِلاف کرنے لگا!نفس کی حیلہ بازیوں میں آ کر ،غیر شَرْعی مَصلَحتوں کو آڑ بنا کر میری طرف سے پیش کردہ خیرخواہا نہ اسلامی اَحکامات کی مخالَفَت کر کے کوئی مسلمان اپنی آخِرت کیوں بگاڑے گا!ہاں خدانخواستہ میں نے کوئی بات ملکی قانون سے ٹکرانے والی یا خلافِ شریعت کر دی ہے تو برائے کرم! قانونی اور شَرْعی دلائل کے ساتھ میری اِصلاح فرما دیجئے مجھے اپنے مَوقِف پر بِلا وجہ اَڑتا نہیں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ