گناہوں بھری تحریرات وغیرہ بِلااجازت ِشَرْعی نہ پڑھتا ہو۔بعض اخبارات میں بسااوقات واہِیات وخُرافات کے ساتھ ساتھ گمراہ کُن کلمات بلکہ کبھی تو مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّکفریات تک لکھے ہوتے ہیں! ایسے اخبارات پڑھنے والے کے خیالات میں جو فسادات پیدا ہو سکتے ہیں وہ ہر باشُعُور شخص سمجھ سکتا ہے۔ یہاں یہ بات عرض کرتا چلوں اگر کبھی کسی عالمِ دین بلکہ عام آدَمی کو بھی اخبار بینی کرتاپائیں تو ہرگز بدگُمانی نہ فرمائیں بلکہ ذہن میں حسنِ ظن جمائیں کہ یہ شَرْعی احتیاطوں کو مَلحوظ رکھتے ہوئے مُطالَعہ کر رہے ہوں گے۔ عام آدَمی کیلئے ایسا اَخبار جو گناہوں بھرا ہو اُسے پڑھنے کے دَوران خود کو معصیت وگمراہی سے بچانا نہایت مشکل ہے اور چُونکہ بعض اوقات غیر محتاط اخبارات کی تحریرات میں کُفریات بھی ہوتے ہیں اِس لئے ان کا مُطالَعہ مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّکُفْر کے گہرے گڑھے میںجا پڑنے کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ رہے کُفّار کے اخبار تو ان کی طرف توعام مسلمان کو دیکھنا بھی نہیں چاہئے کہ جب مسلمانوں کے کئی اخباربے قَیدی کا شکار ہیں تو اُن کا کیا پوچھنا!ظاہِر ہے ان میں تو کُفریات کی بھر مار ہو گی اور وہ اپنے باطِل مذہب کا پَرچار بھی کرتے ہوں گے۔ بَہَرحال مسلمان کوصِرْف اخبار بینی ہی نہیں ہر کام کے آغاز سے قبل اُس کے اُخرَوی (اُخ۔رَ۔وی) انجام پر غور کر لینا چاہئے اور ہر اُس کام سے بچنا چاہئے جس میں