Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
50 - 59
پوچھوں گا۔‘‘ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمدبن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی یہ حکایت نَقْل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :’’حضرتِ سیِّدُناامام محمد ابنِ سِیرِینعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْمُبِیْننے اِس خوف سے آیَندہ کسی سے حال دریافْتْ نہ کرنے کا عَہْد کیاکہ اگرخودپوچھ کر خبر معلوم کرنے کے بعد میں نے اُس کی مدد نہ کی تو پوچھنے کے مُعامَلے میں منافِق ٹھہروں گا۔‘‘وَاللّٰہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔ (کیمیائے سعادت،ج۱ ص ۴۰۸ ) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
مجھے دے خود کو بھی اور ساری دنیا والوں کو
سُدھارنے کی تڑپ اور حوصَلہ یاربّ
(وسائلِ بخشش ص ۹۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اخبار پڑھنا کیسا؟
سُوال: اَخباربینی کرنا کیسا؟
جواب: جو اَخبار شَرْعی تقاضوں کے مطابِق ہو اُسے پڑھناجائز ہے اور جو اَخبار ایسا نہیں اُس کا مُطالَعہ صِرْف اُس کے لئے جائز ہے جو بے پردہ عورَتوں کی تصاویر اور فلمی اشتِہارات کے فُحش مناظِر وغیرہ سے نگاہوں کی حفاظت پر قدرت رکھتا ہو،