جواب : ہر جائزکام سے قبل حسبِ موقع اچھّی اچھّی نیَّتیں کرلینی چاہئیں۔کسی فرد کے بارے میں جائز معلومات حاصِل کرنے میں اِس طرح نیَّتیںکی جاسکتی ہیں۔مَثَلاً اِس کے بارے میں اچھّی خبر سُنوں گا تو مَاشَاءَ اللّٰہ،بَارَکَ اللّٰہ کہوں گا، اس کادل خوش کرنے کیلئے مُبارَکباد پیش کروں گا، اگر یہ پریشان ہوا تو تسلّی دے کر اِس کی دلجوئی کروں گا۔ ممکن ہوا تو اِس کی اِمداد کروں گا،ضَرورتاً اچّھا مشورہ دوں گا،سفر پر ہوا تو دُعا کروں گا ۔ بیمار ہوا تو عیادت یا دعائے شفا یا دونوں دوں گا۔ وغیرہ ۔
خبرمعلوم کرنے کی نِرالی حِکایت
کسی کی خیر خبر معلوم کرنے پر اگر وہ حاجت مَند ظاہِر ہو تو ممکِنہ صورت میں اُس کی مدد کرنی چاہئے۔ ’’کیمیائے سعادت‘‘ میں ہے :سَیِّدُ الْمُعَبِّرِین حضرتِ سیِّدُناامام محمد ابنِ سِیرِینعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْمُبِیْن نے ایک آدَمی سے پوچھا : کیا حال ہے؟ جوابدیا : ( بہت بُرا حال ہے کہ) کثیرُ العِیال ہوں ، (یعنی بال بچّے زیادہ ہیں ) اَخراجات پاس نہیں،اوپر سے 500دِرْہم کا قرضداربھی ہوں، یہ سُن کر حضرتِ سیِّدُناامام محمد ابنِ سیرین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْمُبِیْن اپنے گھر تشریف لائے، ایک ہزار دِرہم اُٹھائے اور اُس دُکھیارے کے پاس آئے اور سارے درہم اُسے عطا فرمائے اور فرمایا : 500دِرہم سے قَرض ادا کیجئے اور 500 گھر کے خَرْچ میں اِستِعمال فرمائیے۔ پھر آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے عَہْد کیا کہ’’ کسی سے حال نہیں