جواب :جائِز ذرائِع سے مُفید و جائز معلومات حاصِل کرنے میںکوئی مُضایَقہ نہیں، بلکہ اچھّی نیّتیں ہوں تو ثواب ملے گا۔ ’’شَمائلِ ترمِذی‘‘ میں حضرتِ سیِّدُناہِند بن ابی ہالہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کردہ ایک طویل حدیث میں یہ بھی ہے کہ یَتَفَقَّدُاَصْحَابَہٗ وَیَسْأَلُ النَّاسَ عَمَّا فِی النَّاسِ یعنی شَہَنْشاہِ خیرُالْاَنام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَصَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَانکے حالات کی معلومات فرماتے اور لوگوں میں ہونے والے واقِعات کے متعلِّق اِستِفسارات(یعنی پوچھ گچھ) کرتے۔ (شَمائل تِرمذی ص۱۹۲) حضرت عَلَّامہعلی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِیاس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:یعنی سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَصَحابہ جو صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَانحاضِر نہ ہوتے اُن کے بارے میں دریافْتْ فرماتے، اگر کوئی بیمار ہوتاتو اُس کی عیادت فرماتے یا کوئی مسافِر ہوتا تو اُس کے لیے دُعا کرتے ، اگر کسی کا انتِقال ہو جاتا تواُس کے لیے مغفِرت کی دُعافرماتے اور لوگوں کے مُعامَلات کی تحقیقات کر کے ان کی اِصلاح فرماتے۔(جمع الوسائل ج ۲ ص ۱۷۷)وَاللّٰہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
خبریں معلوم کرنے کی اچّھی اچّھی نیّتیں
سُوال :خبریں معلوم کرنے کیلئے کیا کیا اچھّی نیَّتیںہونی چاہئیں؟