کو بھی عُلماءِ کرام کے مشورے کے بِغیر نہ بیان کریں نہ ہی کسی کو s.m.s. کریں کیوں کہ غیرمُحتاط تَرجَموں کی بھر مار اور بے احتیاطی کا دَور دَورہ ہے۔ وَاللّٰہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
لب حمد میں کُھلے، تری رَہ میں قدم چلے
یارب ! ترے ہی واسِطے میرا قلم چلے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تردیدی بیان کا طریقہ
سُوال:اگر کسی اخبار میں کسی کے نام سے کوئی قابلِ تردید مضمون یا بیان شائِع ہو اہو تو اُس کی تردید کا کیا طریقہ ہونا چاہئے؟
جواب:تردید میں فُلاں شخص نے یہ کہا ہے یا بیان دیا ہے وغیرہ نہ چھاپا جائے بلکہ صِرْف اُس اخبار کے نام پر اکتِفا کیا جائے کہ’’ فُلاں اخباریا ہفت روزے یا ماہنامے نے ایسا لکھا ہے۔‘‘ مضمون نگار یا جس کی طرف بیان منسوب ہے اُس کی ذات پر ہرگز حملہ نہ کیاجائے، کیوں کہ اخبار یا ماہنامے وغیرہ میں کسی کانام شائِع ہوجانا’’ شَرْعی دلیل‘‘ نہیں۔ مجھے(سگِ مدینہ عفی عنہ کو) خود تجرِبہ ہے کہ بعض اَوقات میری طرف سے ایسی باتیں اخبار میں آجاتی ہیں جن کا مجھے پتا تک نہیں ہوتا!ایک بار میں نے کسی عالم صاحِب سے اُن کی طرف منسوب غیر ذمّے دار انہ