Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
44 - 59
غَلَط تھی ہرجگہ لوگوں نے(یہی) کہا کہ’’ ابھی ایک آدَمی کہہ گیا ہے خبر نہیں کون تھا! ‘‘پھر جوفَساد شروع ہوا وہ سب نے دیکھ لیا ،خدا کی پناہ! اس(حدیثِ پاک میں دی ہوئی خبر) کاظُہُور ہوتا رَہتا ہے۔شیطان چُھپ کر بھی دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہتا ہے اور ظاہِر ہو کرشکلِ انسانی میں نُمُودار ہو کر بھی۔ لہٰذا ہر خبربِغیر تحقیق نہیں پھیلانی چاہئے ۔اس کامطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کبھی شیطان عالِم آدَمی کی شکل میں آ کر (بھی) جھوٹی حدیثیں بیان کر جاتاہے، لوگوں میں وہ جھوٹی حدیثیں پھیل جاتی ہیں۔ اس لیے حدیث کو کتاب میں دیکھ کر اَسناد وغیرہ معلوم کر کے بیان کرناچاہئے۔مفتی صاحِب بیان کردہ حدیثِ مبارَک کے مُتَعَلِّق فرماتے ہیں: اگر چِہ فرمان حضرتِ ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا ہے مگر’’ مرفُوع حدیث‘‘ کے حکم میں ہے کہ ایسی بات صَحابی اپنے خیال یا رائے سے بیان نہیں فرما سکتے حُضُور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) سے سن کر ہی کہہ رہے ہیں۔(مراۃ ج۶ ص ۴۷۷ ) اِس حدیثِ پاک اور اس کی شَرْح سے اُن لوگوں کو بھی درس حاصِل کرنا چاہئے ، جوموبائل فون پر s.m.s.کے ذَرِیعے موصول ہونے والی طرح طرح کی حدیثیںدوسروں کو فارْوَرْڈ کرتے( یعنی آگے بڑھاتے) رہتے ہیں۔ حالانکہ ان میں کئی احادیث ’’ اُصولِ حدیث‘‘ سے مُتصادِم اور مُوضوع یعنی مَن گھڑت ہوتی ہیں! لہٰذا ان حدیثوں کو اوراِسی طرح اخبارات وغیرہ میں شائع کردہ اَحادیث