بھی اس کے علاوہ (یعنی اُس مقصد سے ہٹ کر)گزر گیا تو وہ (بندہ)اِس بات کا حقدار ہے کہ اُس کی حسرت طویل ہو جائے اور جس کی عمر40 سال سے زیادہ ہو جائے اور اِس کے باوُجُود اُس کی بُرائیوں پر اُس کی اچّھائیاں غالِب نہ ہوں تو اُسے جہنَّم کی آگ میں جانے کے لئے تیّار رہنا چاہئے۔‘‘ ( تفسیرروح البیان،سورۂ بقرۃ،تحت الایۃ : ۲۳۲ ، ج۱، ص۳۶۳ ) (اے بیٹے!)سمجھدار اور عقلمند کے لئے اتنی ہی نصیحت کافی ہے۔
گو یہ بندہ نکمّا ہے بیکار اِس سے لے فَضل سے ربِّ غفّار
کام وہ جس میں تیری رِضا ہے یاخدا تجھ سے میری دُعا ہے
(وسائلِ بخشش ص۱۳۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شیطان افواہ اُڑاتا ہے
سُوال: اُڑتی ہوئی خبرملی کہ فُلاں فُلاں گروپ آپَس میں مُتصادِم ہو گئے ہیں اور باہم لڑائی چِھڑ گئی ہے ایسی خبریں چھاپنا کیسا؟
جواب: ایسی خبریں تومُصَدَّقہ( یعنی تصدیق شدہ) ہوں تب بھی چھاپنے میں نقصان کے سوا کچھ نہیں کہ عُمُوماًاِس طرح ہنگامے بڑھتے اور جان و مال کی ہلاکتوں اور بربادیوں میں اضافہ ہو تا ہے۔ ’’ اَمْنِ عامّہ میں خلل ڈالنے کی کوشش ‘‘پر مبنی خبریں تو خود ہمارے مُلکی قانون کے بھی خلاف ہیں۔ رہی اُڑتی ہوئی خبر جسے ’’ اَفواہ‘‘ کہتے ہیں ،اِس پرتو اعتِماد کرنا ہی نہیں چاہئے، ایسی افواہیں شیطان بھی