Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
41 - 59
کیا ہر خبر چھاپنے سے قبل خوب تحقیق کرنی ہو گی ؟
سُوال: توکیاہر خبر چھاپنے کیلئے خوب تحقیق کرنی ہو گی ؟
جواب: ایسی جائز و بے ضَرر خبر جو کسی فرد یا قوم یا اِدارے وغیرہ کی مَذَمّت یا مَضَرَّت یا مَذَلَّت پر مبنی نہ ہو ، جس میں کسی قسم کی شَرْعی خامی یا فتنے یا امْنِ عامّہ میں خَلَل کا شائبہ نہ ہو، اپنے مُلک کاکوئی قانون بھی نہ ٹوٹتا ہو، کمزور قول ملنے پر بھی چھاپی جا سکتی ہے۔البتّہ لایعنی خبروں، غیر مفید نظموںاور فُضُول مضمونوں اور بیکار چُٹکُلوں سے بچنا مُناسِب ہے ۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہے: اِنَّ مِنْ حُسْنِ اِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَالَایَعْنِیْہِ۔یعنی   فُضول باتیں تَرْک کر دینا انسان کے اسلام کی خوبی سے ہے۔(تِرمذی ج۴  ص۱۸۸۵حدیث۲۳۲۵) دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہکی مطبوعہ63 صَفحات پر مشتمل کتاب ،  ’’ بیٹے کو نصیحت‘‘ صَفْحَہ 9تا10پرحُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں:اے پیارے بیٹے !حضور نبیِّکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیمعَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلاةِ وَالتَّسْلِيْمنے اپنی امّت کو جو نصیحتیں اِرشاد فرمائیں اُن میں سے ایک مہَکتامدنی پھول یہ(بھی) ہے :’’بندے کا غیر مفید کاموں میں مشغول ہونا اِس بات کی علامت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے اِس سے اپنی نظرِ عنایت پھیر لی ہے اور جس مقصد کے لئے بندے کو پیدا کیا گیا ہے اگر اس کی زندگی کا ایک لمحہ