Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
40 - 59
صِرْف اِس وَجْہْ سے گنہگار کہنا جائز نہیں کہ بَہُت سارے لوگ اُس کی طرف گناہ مَنسوب کر رہے ہوں اور یوں بھی آج کل لوگوں میں بُغْض وکِینہ اور حسد و جھوٹ کی کثرت ہے۔ بعض اَوقات آدَمی جَہالت ولا علمی کے سبب بھی کسی پر الزام رکھ دیتا ہے اور لوگوں میں اِس کا تذکِرہ بھی کر دیتا ہے اور لوگ بھی اُس کے حوالے سے آگے بیان کر دیتے ہیں۔ شُدہ شُدہ یہ خبر کسی ایسے شخص تک جا پہنچتی ہے جو کہ اپنے علم پرمغرور اور فضلِ خداوندی سے دُور ہوتا ہے ، وہ لاعلمی کے سبب بیان کردہ اُس’’ گناہ‘‘ کا بِلا کسی تحقیق اس طرح تذکِرہ کرتا ہے کہ مجھے یہ خبر تسَلْسُل کے ساتھ ملی ہے۔ حالانکہ جس کی طرف گناہ کی نسبت کی جا رہی ہوتی ہے اُس غریب کو خواب میں بھی اِس بات کی خبر نہیں ہوتی! مزید فرماتے ہیں: ’’جب کسی شخص سے بطریقِ تواتُر یا مُشاہَدہ (یعنی آنکھوں دیکھا)  گناہ ثابت بھی ہو جائے تب بھی اِس کا اظہار بند کردے کیونکہ لوگوں میں بطورِ غیبت کسی کے گناہ کا تذکِرہ حرام ہے اِس لئے کہ غیبت سچّی بھی حرام ہے۔‘‘وَاللّٰہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
عیبوں کو عیب جُو کی نظر ڈھونڈتی ہے پَر
ہر خوش نظر کو آتی ہیں اچّھائیاں نظر
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد