قِیامت میں دیکھ کر خوش ہو سکو۔‘ ‘ (اِحیاء العلوم ج۵ ص ۲۶۶)
وَاللّٰہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
دے تمیز اچھے بھلے کی مجھ کو اے ربِّ غَفور
میں وُہی لکھوں کرے جو سُرخ رُو تیرے حُضور
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سُنی سنائی بات میں آ کر کسی کو گنہگار کہنا
سُوال:کسی شخص کے بارے میں کوئی بُرائی کی خبرعوام میں مشہور ہوجائے تو اُسے چھاپا جا سکتا ہے یا نہیں ؟
جواب:صرف اِس بنیاد پر نہیں چھاپ سکتے۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہے:کَفٰی بِالْمَرْءِ کَذِباً اَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَاسَمِعَ۔ یعنی کسی انسان کے جھوٹا ہونے کویہی کافی ہے کہ وہ ہر سُنی سُنائی بات (بِلاتحقیق ) بیان کردے ۔( مُقَدّمہ صَحیح مُسلِم ص۸ حدیث۵)کسی کے گناہ کی صِرف شُہرت ہوجانا اُس کے گنہگار ہونے کی ہرگز دلیل نہیں۔میرے آقا اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلِسنّت ،مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن نےفتاوٰی رضویہ جلد 24صَفْحَہ 106تا108پر زبردست حنفی عالم حضرت علّامہ عارِف بِاللّٰہ ناصِح فِی اللّٰہ سیِّدی عبدالغنی نابُلُسی قُدِّسَ سِرُّہُ القُدسی کا طویل ارشادنَقل کیاہے اس کے ایک حصّے کاخُلاصہ ہے:کسی کو