Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
37 - 59
ایک غَلَط لَفْظ ہی کہیں جہنَّم میں نہ ڈالدے
	پیارے پیارے صَحافی اسلامی بھائیو!اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں دین ودنیا کے تمام مُعاملات میںمُحتاط رہنے کی سعادت بخشے اور ہماری آخِرت برباد ہونے سے بچائے۔ اٰمین۔ بَہُت ہی سوچ سمجھ کر لکھنایا بولنا چاہئے کہ مَبادا ( یعنی خدا نہ کرے)زَبان یا قلم سے کوئی ایسی بات صادر ہو جائے جو کہ آخِرت تباہ کر کے رکھ دے۔ اِس ضِمْن میں دو فرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّممُلاحَظہ ہوں : {۱}بیشک آدَمی ایک بات کہتا ہے جس میں کوئی حَرَج نہیں سمجھتا حالانکہ اس کے سبب ستّر سال جہنَّم میں گرتا رہے گا۔(تِرْمِذِی ج۴ ص ۱۴۱ حدیث ۲۳۲۱) {۲} کوئی شخص اللہ     عَزَّوَجَلَّکی ناراضی کی بات کرتا ہے وہ اُس مقام تک پہنچتی ہے جس کا اس کو خیال بھی نہیں ہوتا۔ پس اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کلام کی وجہ سے اس پر اپنی ناراضی قِیامت تک کے لئے لکھ دیتا ہے۔(اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْر ج۱ ص ۳۶۵ حدیث ۱۱۲۹ ) میرے آقا اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  عِلْمِ دین نہ ہونے کے باوُجُود اسلامی مَضامین لکھنے اور شَرْعی مُعاملات میں مُداخَلَت کرنے والوں کی مذمّت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ جسے اُلٹے سیدھے دو حَرْف اُردو کے لکھنے آگئے وہ مصنِّف ومُحقِّق ومُجتَہِد بن بیٹھا اور دینِ متین میں اپنی ناقِص عَقْل، فاسِد رائے سے دخْل دینے لگا ، قراٰن وحدیث و عقائد وارشاداتِ اَئِمّہ سب کا مخالِف ہوکر پہنچا جہاں پہنچا !‘‘(فتاوٰی رضویہ ج۲۲ ص۵۰۴)وَاللّٰہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔