Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
36 - 59
ہوتے اور اسلامی اقدار کوپامال کرتے نظر آتے ہیں ، نیز جس کی چاہتے ہیں اپنے کالم کے ذَرِیعے عزّت اُچھالتے اور اُس کی آبرو کی دھجیاں بِکھیر دیتے ہیں اور جس پر’’ مہربان‘‘ ہو جاتے ہیں وہ اگر چِہ پاپی سماج میں پلنے والا گندی نالی کا کیڑا ہی کیوں نہ ہواُسے ’ ’ہِیرو‘‘ بنا دیتے ہیں !
گناہوں بھری تحریر مرنے کے بعد گناہ جاری رکھ سکتی ہے
		میٹھے میٹھے صحافی اسلامی بھائیو!اللہ     عَزَّوَجَلَّہم سب سے سدا کیلئے راضی ہو اور ہمیں بے حساب بخشے ۔اٰمین۔ ہر ایک کویہ ذِہْن نشین کر لینا چاہئے کہ جس بات کا زَبان سے ادا کرناکارِ ثواب ہے اُس کاقلم سے لکھنا بھی ثواب اور جس کا بولنا گناہ اُس کا لکھنا بھی گنا ہ ہے بلکہ بولنے کے مقابلے میں لکھنے میں ثواب و گناہ میں اضافے کا زیادہ امکان ہے مقولہ ہے :اَلْخَطُّ بَاقٍ وََّالْعُمْرُ فَانٍ یعنی ’’تحریر (تادیر) باقی رہے گی اور عُمر (جلد) فنا ہو جائیگی ‘‘ بَہَرحال تحریرتادیر قائم رہتی اور پڑھی جاتی ہے ، وہ جب تک دنیا میں باقی رہے گی لوگ اُس کے اچھّے یا بُرے اثرات لیتے رہیں گے اور لکھنے والا خواہ فوت ہو چکا ہواُس کیلئے ثواب یا عذاب میں زیادَتی کاسلسلہ جاری رہے گا۔گناہوں بھری تحریر مرنے کے    بعد بھی باقی رہ کر پڑھی جاتی رہنے کی صورت میں گناہ جاری رہنے کا خوفناک تصوُّر ہی خوفِ خدا رکھنے والے مسلمان کا ہوش اُڑانے کیلئے کافی ہے!