عُلَماء و مشائخ کی کردار کُشی
پیارے پیارے صَحافی اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں علمائے اہلسنّت کے قدموں میں رکھے اور بروزِ حشر انہیں کے زُمرے میں اٹھائے ۔ اٰمین۔فی زمانہ توایسا لگتا ہے کہ بعض اخبار والوں کو عُلَماء ومشائخ اور مذہبی شکل و شَباہت سے جیسے چِڑ ہو ! جہاں کسی مذہبی فرد یا مسجِد کے امام یامُؤذِّن وغیرہ کی کسی خطا کی بَھَنک کان میں پڑی، اُسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اُس مذہبی فرد کی تذلیل اور کردار کُشی کا کئی دن تک کیلئے باقاعِدہ ایک سلسلہ چلا دیا! ہاں کسی عامِل وبابا یعنی تعویذ گنڈے دینے والے کی بھول سامنے آنے اور شَرْعی ثُبُوت مل جانے کی صورت میں اُس فرد ِ خاص کے شر سے لوگوں کو بچانے کیلئے اس کے مُتَعلِّق بیان کرنا دُرُست ہے اور اِسی طرح اِس قبیل(یعنی قِسم) کے دوسرے جھوٹے لوگوں اور ٹھگوں سے مُحتاط رہنے کا مشورہ دینا بھی بَہُت مناسِب ہے لیکن یہ ہرگز ہرگز جائز نہیں کہ اُسے ’’ نقلی پیر‘‘ قرار دے کر حقیقی عُلَماء و مشائخ کو بدنام کرنے کی مذموم ترکیبیں شروع کر دیں، حالانکہ ہر تعویذات دینے والا پِیری مُریدی نہیں کرتا، عامل ہونا اور چیز ہے اور پیر ہونا اور۔
بعض کالم نگاروں کے کارنامے
بعض ’’کالم نگار ‘‘ بھی نہایت بے باکی کے ساتھ شَرْعی مُعامَلات میں دَخِیل