Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
33 - 59
وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ۪ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ ۪ وَاتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ شَدِیۡدُ الْعِقَابِ ﴿۲﴾
ترجَمۂ کنزالایمان:اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اوراللہ سے ڈرتے رہو بے شکاللہ کا عذاب سخت ہے۔وَاللّٰہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
بندے پہ تیرے نفسِ لعیں ہو گیا مُحیط
اللہ! کر علاج مِری حِرص و آز کا
(ذوقِ نعت)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
فلمی اشتِہارات
سُوال: فلمی اشتِہارات کے بارے میں بھی کچھ روشنی ڈال دیجئے۔
جواب: فلموں ڈراموں اور میوزِک شَو وغیرہ کے اشتِہارات اپنے اخبارات میں دینا گناہ و حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے، ایسے اشتِہارات کے ذَرِیعے ملنے والی اُجرت بھی حرام ہے۔اس طرح کے اشتِہارات دیکھ کر جتنے لوگ وہ فلم یا ڈرامہ دیکھیں گے یا میوزِک شو میں شریک ہوں گے اُن سب کو اپنا اپنا گناہ ملے گاجبکہ ان سب کے مجموعے کے برابر گناہ اخبار کے مالِکوں اور اِس میں اشتہار ڈالنے کے ذمّے داروں کو ملیں گے۔مَثَلاً اِشتہار کے ذَرِیعے آگاہی پا کر دس ہزار افراد نے فلم دیکھی تو مذکورہ اخبار