Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
32 - 59
مانِعِ شَرْعی نہ ہو۔جادو ٹونا کرنے والوں،سُودی اِداروں،خلافِ شَرْع اَقساط پر کاروبار کرنے والوں،  گناہوں بھری لاٹریوں،غیر اسلامی عقائد پر مبنی کتابوں، نیز غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں کی مبارکبادیوںوغیرہ پر مشتمل اشتہارات نہ چھاپے جائیں۔آج کل ایڈورٹائز منٹ میں اکثر جھوٹ یا جھوٹی مُبالَغہ آرائی سے کام لیاجاتا ہے، اخبارات والوں کو اس طرح کے اشتہارات چھاپنے سے بھی بچناضَروری ہے، مَثَلاً جعلی یا نا قص یا جن دواؤں سے شفا کا گمانِ غالِب نہیں ہے ان کے بارے میں اِس طرح کی سُرخی :’’ سو فیصدی شرطیہ علاج‘‘ یہ جھوٹا مُبالَغہ ہے ،بلکہ ایسے جملے تو کسی بھی دوائی کے بارے میں نہیں کہنے چاہئیں کیونکہ ہر طبیب جانتا ہے کہ طِبّ سارے کا سارا ظَنّی ہے، کسی بھی دوا کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اِس سے شِفا ہو ہی جائیگی۔ بے شمار وہ اَمراض جن کے مُعالَجات دریافت ہو چکے ہیں،انہیں اَمراض میں علاج کی تمام مُجرَّب صورَتیں آزما لینے کے باوُجُود روزانہ بے شمارمریض دم توڑ دیتے ہیں، یہ اِس بات کی واضِح دلیل ہے کہ کوئی بھی دوا ایسی نہیں جس کے ذَرِیعے شِفا ملنایقینی ہو۔ شِفا صِرْف مِن جانِبِ اللّٰہہے۔ بَہَر حال اخبارات میں گناہوں بھرے اشتہارات شائع کرنا گناہ ہے، صِرْف جائز اشتہارات چھاپے جائیں۔ قراٰنِ کریم ،پارہ 6سُوْرَۃُ الْمَائِدَہآیت نمبر2 میں ارشادِ ربُّ العِباد ہے: