Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
29 - 59
مسلمانوں کے عیب ڈھونڈنا مُنافِق کا کام ہے
	حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہبن محمد بن مَنازِل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا :اَلْمُؤمِنُ یَطْلُبُ مَعَاذِیْرَاِخْوَانِہٖیعنی مومن تو اپنے مسلمان بھائیوںکاعُذْر تلاش کرتا ہے وَالْمُنَافِقُ یَطْلُبُ عَثَرَاتِ اِخْوَانِہٖ’’ جبکہمُنافِق اپنے بھائیوں کی غَلَطیاں ڈھونڈتاپھرتا ہے۔‘‘ (شُعَبُ الْاِیمان ج۷ ص۵۲۱ حدیث ۱۱۱۹۷ ) مطلب یہ کہ ایمان کی علامت لوگوں کے عُذْر قَبول کرنا ہے جبکہ ان کی غَلَطیاں تلاش کرنا نِفاق کی نشانی ہے۔وَاللّٰہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
کسی کی خامیاں دیکھیں نہ میری آنکھیں اور
سنیں نہ کان بھی عیبوں کا تذکِرہ یاربّ
(وسائلِ بخشش ص۹۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بدکاری کی خبر لگانا کیسا؟
سُوال : بدکاری کے ملزَمِین کی اخبار میں خبریں لگانے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب :ان خبروں کا موجودہ انداز عُموماً غیر مُحتاط اور گناہوں بھرا ہوتا ہے ۔ گندی خبروں کا بعض اخباروں میں باقاعِدہ سلسلہ چلایا جاتا ہے ، ملزَم اور ملزَمہ کی تصاویر شائع کی جاتیں اور خوب حیا سوزباتیں لکھی جاتی ہیں اور یہ یقینا ناجائز ہے۔اور اِس طرح بسا اوقات ملکِ پاکستان کے’’ قانونِ مطبوعات وصَحافت‘‘ کی بھی