عیب جُو خود رُسوا ہو گا
حُضُور نبیِّ کریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیمعَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلاةِ وَالتَّسْلِيْمکا فرمانِ عظیم ہے : ’’اے وہ لوگو جو زَبان سے تو ایمان لائے ہو مگر جن کے دلوں میں ابھی تک ایمان داخِل نہیں ہوا! نہ تو مسلمانوں کی غیبت کرو اور نہ ہی ان کے پوشیدہ عیب تلاش کرو کیونکہ جو مسلمانوں کے پوشیدہ عیب تلاش کرتا ہےاللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے عیب ظاہِر فرما دے گا اوراللہ عَزَّوَجَلَّجس کے عیب ظاہِر فرما دے تو وہ اُسے ذلیل و رُسوا کر دے گا اگرچِہ وہ اپنے گھر کے اندر بیٹھا ہوا ہو۔ ‘‘
(ابوداوٗدج۴ص۳۵۴حدیث۴۸۸۰)
پیارے پیارے صحافی اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّوَجَلَّکی ذات عیبوں سے پاک ہے ، انبیائے کِرامعَلَیْہمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور ملائکہ نَقائص (یعنی خامیوں)سے پاک اور معصوم ہیں، باقی ہم جیسے گنہگار تو سرا سر عیب دار ہیں۔یہ تواللہ عَزَّوَجَلَّکا کرم ہے کہ اس نے ہمارے عیبوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے بھی ایک دوسرے کا پردہ فاش نہ کریں لیکن جو باز نہیں آتا اور دوسروں کو ذلیل و خوار کرنے کی گھات میں لگا رہتا ہےاللہ عَزَّوَجَلَّاسے بھی دنیا و آخِرت میں ذلیل کردیتا ہے حتّٰی کہ اُس کے وہ عیب بھی ظاہر کردیتا ہے جو اُس نے اپنے اہلِ خا نہ سے چُھپا رکھے تھے اور اِس طرح وہ اپنے گھر والوں کی نظروں سے بھی گر جاتا ہے اور پھر اِس کی اَولاد تک اِس کا احتِرام نہیں کرتی۔