۔۔۔۔۔تو تُم ان کو ضائِع کر دو گے
حضرتِ سیِّدُناامیرِمُعاوِیہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: میں نے نبیِّ مُکَرَّم ، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اکرم، شَہَنْشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا یہ ارشادِ معظَّم خود سنا ہے:اِنَّکَ اِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ اَفْسَدْتَّھُمْ۔ ’’اگر تم نے لوگوں کے (پوشیدہ) عُیُوب تلاش کئے تو تم ان کوتباہ کردو گے۔ ‘‘
(ابوداوٗدج۴ص۳۵۶حدیث۴۸۸۸)
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس حدیثِ پاک کے تَحت فرماتے ہیں:ظاہر یہ ہے کہ اس فرمانِ عالی میں خطاب خُصُوصی طور پر جنابِ مُعاوِیہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)سے ہے چونکہ آیَندہ یہ سلطان بننے والے تھے، تو اُس غُیُوب داں محبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے پہلے ہی اُن کو طریقۂ سلطنت کی تعلیم دی کہ تم بادشاہ بن کر لوگوں کے خُفیہ عُیُوب نہ ڈھونڈھا کرنا، درگزر اور حتَّی الاِمکان عَفْوو کرم سے کام لینا اور ہوسکتا ہے کہ رُوئے سُخَن سب سے ہو کہ باپ اپنی جوان اولاد کو، خاوَند اپنی بیوی کو، آقا اپنے ماتَحتوں کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے نہ دیکھے ۔ بدگمانیوں نے گھر بلکہ بستیاں بلکہ مُلک اُجاڑ ڈالے۔
(مراٰۃ ج۵ص۳۶۴ مختصراً)