Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
26 - 59
مسلمانوں کی عیب جُوئی نہ کرو
	اِس حصّۂ آیتِ مقدّسہ کے تَحْت صدرُالْاَ فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی’’خَزائِنُ العِرفان‘‘میں فرماتے ہیں : ’’یعنی مسلمانوں کی عیب جُوئی نہ کرو اور ان کے چُھپے حال کی جُستجُومیں نہ رہوجسے اللہ تَعَالٰینے اپنی سَتّاری سے چُھپایا ۔ حدیث شریف میں ہے : گُمان سے بچو گمان بڑی جھوٹی بات ہے اور مسلمانوں کی عیب جُوئی نہ کرو ، ان کے ساتھ حرص و حسد ،بُغْض ، بے مُرَوَّتی نہ کرو ، اےاللہ تَعَالٰیکے بندو !بھائی بنے رہو جیسا تمہیں حُکم دیا گیا ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، اُس پرظُلْم نہ کرے ، اُس کو رُسوا نہ کرے ، اُس کی تَحقیر نہ کرے ، تقوٰی یہاں ہے ، تقوٰی یہاں ہے ، تقوٰی یہاں ہے ، ( اور’’یہاں‘‘ کے لفظ سے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا) آدَمی کے لئے یہ بُرائی بَہُت ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کوحَقیر دیکھے ، ہر مسلمان، مسلمان پرحرام ہے، اس کا خون بھی ، اس کی آبرو بھی ، اس کا مال بھی ۔’’اللہ تَعَالٰیتمہارے جسموں اور صورَتوں اورعَمَلوں پر نظر نہیں فرماتا لیکن تمہارے دلوں پر نظر فرماتا ہے ۔‘‘۱؎(بخاری و مسلم)حدیث شریف میں ہے: جو بندہ دنیا میں دوسرے کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تَعَالٰیروزِ قِیامت اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔‘‘ ۲؎            (خزائن العرفان ص۹۵۰مکتبۃ المدینہ )
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱  ؎   مسلم ، ص ۱۳۸۶حدیث۱۳۸۶،۱۳۸۷
۲؎  بخاری ج ۲ص۱۲۶حدیث۲۴۴۲