Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
25 - 59
  اور کہانیاں تو وہ بھی جاسوسی۔اللہ تعالٰی ہم مسلمانوں کو ایک دوسرے کی عزّت کا محافِظ بنائے اور دونوں جہانوں میں سُر خرو کرے۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم وَاللّٰہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
اَخلاق ہوں اچھّے مِرا کِردار ہو سُتھرا
محبوب کا صدقہ تُو مجھے نیک بنادے
(وسائلِ بخشش ص۱۰۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صحافیوں کا کُرید کر باتیں اُگلوانا
سُوال: اگر صَحافی موقع بہ موقع گھروں پر جا کر ’’کُرید‘‘ نہیں کریں گے تو قوم تک صحیح اَحوال کون پہنچائے گا !
جواب :قوم کوہر سطح کے لوگوں کے بِغیر کسی حُدُود و قُیُود کے مَعائِب( یعنی عیبوں) سے باخبر کرنے کی آخِر حاجت ہی کیا ہے؟کسی ایک آدھ قومی و عوامی مسئلے سےمُتَعَلِّق بطورِ خاص کوئی ایک آدھ تحقیق شدہ بات بیان کرنے کی تو اجازت ہوسکتی ہے لیکن ہمارے ہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ کچھ ڈھکا چھپا نہیں۔ یاد رکھئے کہ کسی کے ذاتی مُعامَلات کی ٹوہ میں پڑنے اور ان کی ’’چھان کُرید‘‘ کرنے کی شریعت نے مُمانَعَت فرمائی ہے۔ چُنانچِہ پارہ26  سُوْرَۃُ الْحُجُرَاتآیت 12 میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ لَا تَجَسَّسُوۡا			ترجَمۂ کنزالایمان: اور عیب نہ ڈھونڈو۔