گُل چَھرّے اُڑائیں گے ؟ یاد رکھئے !آخِر کار آپ جناب کو اندھیری قبر میں اُترنا ہی ہےاورکَما تَدِیْنُ تُدَان( یعنی جیسی کرنی ویسی بھرنی)سے سابِقہ پڑنا ہی ہے ۔ بُرا چرچا پھیلانے کے عذاب سے ڈرنے اور دل میں خوفِ آخِرت پیدا کرنے کیلئے ایک آیتِ کریمہ اور ایک حدیثِ مبارَکہ مُلاحَظہ ہو: پارہ 18سُوْرَۃُ النُّوْر آیت نمبر 19 میںاللہ عَزَّوَجَلَّکا فرمانِ عبرت نشان ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِیۡعَ الْفٰحِشَۃُ فِی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ ؕ
ترجَمۂ کنزالایمان: وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے ان کے لئے درد ناک عذاب ہے دنیا اور آخِرت میں ۔
حدیثِ پاک میں ہے: ’’ فِتنہ سویا ہوا ہوتا ہے اُس پراللہ عَزَّوَجَلَّکی لعنت جو اِس کو بیدار کر ے ۔‘‘(اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطی ص۳۷۰حدیث ۵۹۷۵)
سَنسنَی خیز خبریں پھیلانا
اِس بات پر جس قَدَر افسوس کیا جائے کم ہے کہ آج کل بعض صحافیوں کا کام ہی صِرف افواہیں اُڑانا اور سنسنی خیز خبریں پھیلانا رہ گیا ہے ۔ ان کی تمام تر کوشِش یِہی ہوتی ہے کہ کسی طرح گھروں میں گُھس کرلوگوں کے سنسنی پھیلانے والے ذاتی حالات معلوم کریں ہوسکے تو بطورِ ثُبُوت فوٹو بھی بنالیں اور ان کی عام تشہیر کرکے انہیں بے آبرو کریں، مسلمانوں کو ایک دوسرے سے مُتَنَفِّر(مُ۔ تَ ۔ نَفْ۔فِر) کریں اور لڑائیں ، اب ان کا سب سے بڑا کارنامہ جاسوسی رَہ گیا ہے، خبریں تو جاسوسی، مضامین تو جاسوسی