Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
23 - 59
تراشی غیر مسلموں پر بھی جائز نہیں مگر افسوس! کہ اب مسلمان ایک دوسرے کے خلاف تہمتوں سے بھر پور بیانات داغتے اور آزادیِ صَحافت کے نام پر بعض اخبارات انہیں آنکھیں بند کر کے چھاپتے ہیں، خُصُوصاً انتِخابات کے دنوں میں بطورِ رشوت ملنے والے چند سکّوں کی خاطر کسی ایک فریق سے’’ ترکیب‘‘ بنا لی جاتی ہے اور فریقِ ثانی پر جی بھرکر کیچڑ اُچھالی جاتی اور اس کی خوب خوب پَولیں کھولی جاتی ہیں اور یوں گناہوں کا ایک طویل سلسلہ چل نکلتا ہے، انتِخابات خَتْم ہو جاتے ہیں مگر دشمنیاں باقی رہ جاتی ہیں۔
ایسی خبر شائع نہ فرمائیں جو فتنے جگائے
		پیارے پیارے صَحافی اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا کی دولت کی حِرص سے ہماری حِفاظت کرے، ہمیں مسلمانوں میں فتنے پھیلانے والا بننے سے بچا کر اَمن و امان کا داعی بنائے۔ اٰمین۔صد کروڑ افسوس کہ بسا اوقات جان بوجھ کر ایسی خبریں بھی چھاپ دی جاتی ہیں جو مسلمانوں میں فتنہ وفَساداور بُرا چرچا پھیلنے کا باعِث بنتی ہیں ، ایسا کرنے والے کو اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرنا اور اپنی موت کو یاد کرنا چاہئے ۔ چٹپٹی خبروں سے اگر اخبار کی چند کاپیاں بِک بھی گئیں اور دنیا کی ذلیل دولت میں قدرے اضافہ ہو بھی گیا تب بھی ان سے کب تک فائدہ اُٹھائیں گے؟ انہیں کب تک کھائیں گے؟آخِراِس دارِناپائیدار میں کب تک