Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
22 - 59
کردار اِس مُعامَلے میں نادان بچّوں سے بھی گیا گزرا ہو تا ہے، بس جوخبر ہاتھ لگی ، چھاپ دی، اب چاہے اِس سے نسلی فَسادات کو ہوا ملے چاہے لِسانی فسادات کو، چاہے اِس سے کوئی زخمی ہو یا کسی کی لاش گرے،خواہ اِس سے کسی کا گھر تباہ ہویا چاہے اپناوطنِ عزیز ہی داؤ پر لگ جائے ۔ کیسی ہی راز داری کی خبرکیوں نہ ہو، آزادیِ صَحافت کے نام پر چھاپنی ضَرور ہے، گویا ہر طرح کی ہر خبر کی اشاعت ہی آزادیِ صَحافت ہے! ہر سمجھدار آدمی یہ بات جانتا ہے کہ ہر بات ہر کسی کو نہیں بتائی جاتی۔پھر جب آدَمی زَبانی بات کرتا بھی ہے تووہ دس بیس یاپچاس سو تک پہنچتی ہو گی مگر اخبار بینی کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے اور  دوست دشمن سبھی پڑھتے ہیں۔ کاش!بولنے سے پہلے تولنے اور چھاپنے سے پہلے ناپنے کا ذِہن بن جائے۔ کاش! اے کاش!یہ حدیثِ پاک ہر مسلمان صَحافی حِرزِجان بنالے جس میں میرے پیارے پیارے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ ہدایت نشان ہے: ’’ جب تو کسی قوم کے آگے وہ بات کریگا جس تک اُن کی عقلیں نہ پہنچیں تو ضَرور وہ اُن میں کسی پر فِتنہ ہو گی۔‘‘ (ابنِ عَساکر ج۳۸ص۳۵۶) کیا آزادیِ صَحافت اس کا نام ہے کہ مسلمانوں کی بے دَرَیغ عزّتیں اُچھالی جائیں !رشوتیں لیکر فریقِ مقابِل کا حَسَب نَسَب کھنگال ڈالا  جائے! مسلمانوں پر خوب خوب تہمتیں دھری جائیں ! مسئلہ تو یہ ہے کہ الزام