Brailvi Books

اخبار کے بارے میں سوال جواب
21 - 59
صَحافت کی آزادی
سُوال: آپ کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ آپ صَحافَت کی آزادی سے مُتّفِق نہیں!
جواب : میں ہر اُس ’’آزادی‘‘سے غیر مُتَفِق ہوں جو’’ آخِرت کی بربادی‘‘ کا باعِث ہو ، میں اِس وَقت مسلمانوں سے مُخاطِب ہوں اور جو صَحافی مسلمان ہیں اُن پر خود ہی شریعت کی طرف سے پابندیاں عائد ہیں، وہ مَن مانی کرنے کے لئے ’’آزاد‘‘ ہی کب ہیں!ہاں تعمیرِ قوم و مِلّت کے لئے شریعت کے دائرے میں رہ کر بے شک وہ خوب اپنا قلم استِعمال کریں۔فِی نَفْسِہٖ صَحافت کوئی بُری چیز بھی نہیں، صَحافت کا سب سے بڑا اُصول سچّائی ہے، صداقت ہی پر صَحافت کی عمارت تعمیر ہوسکتی ہے۔ہماری تاریخ میں ایسے بے شمار صحافیوں کے نام موجود ہیں جن کو ہم آج بھی سلام کرتے اور ان کے کارناموں کی قَدْر کرتے ہیں۔ وہ بے باک تھے، حق گو تھے، دِیانت دار تھے، ان کا لکھا ہواایک ایک حَرْف گویا انمول ہیرا ہوتا تھا جسے وہ قوم کی نَذْر کرتے تھے ۔
’’اچّھے بچّے گھر کی بات باہَر نہیں کیا کرتے!‘‘
	میٹھے میٹھے صَحافی اسلامی بھائیو!اللہ تعالٰی ہم سب کو عقلِ سلیم کی نعمت عنایت فرمائے۔ اٰمین۔باشُعُور لوگ اپنے بچّوں کوشُروع ہی سے یہ تعلیم دیتے ہیں کہ دیکھو بیٹا! ’’اچّھے بچّے گھر کی بات باہَر نہیں کیا کرتے۔‘‘ مگر بعض اخبارات کا