موضوع‘‘ ہاتھ آ جاتا ہے،بے کار باتوں،قِیاس آرائیوں انتِظامیہ پر تنقیدوں اور تہمتوں وغیرہ کا سلسلہ چل نکلتا ہے! دنیاکے جن مَمالِک میں اِس طرح کی داخِلی وارِداتوں کی تشہیر پر پابندی ہے وہاں نہ ہڑتالیں ہوتی ہیں نہ ہنگامے، وہ پُر اَمْن بھی ہیں اور دُنیوی اعتبار سے ترقّی کی راہوں پر گامزن بھی۔ اگر ایسی خبروں کی اشاعت نہ کرنے میں اُمّت کا کوئی بَہُت بڑا نقصان نظر آتا ہو اور ثواب کا بَہُت بڑا ذخیرہ ہاتھ سے نکلتا محسوس ہوتا ہو تو صَحافی حضرات میری تَفہیم فرمائیں، میں اپنے مَوقِف پر اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّنظرِ ثانی کرلوں گا۔نیز صحافی حضرات بھی’’ضمانت ضبط ‘‘یا ’’اخبار کی اشاعت پر پابندی‘‘ کا باعث بننے والے قانونِ مطبوعات و صحافت کے ضابِطۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 24کے تحت آنے والے 15جرائم میں سے شق نمبر3اور6 پر غور فرما لیں۔ (شِق نمبر3)تَشدُّد یا جِنس سے تعلُّق رکھنے والے جرائم کی ایسی رُودادجس سے غیرصحّت مندانہ تَجَسُّس یا نَقْل کا خیال پیداہونے کا امکان ہو(شِق نمبر6)اَمْنِ عامّہ میں خَلَل ڈالنے کی کوشِش ۔ وَاللّٰہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
سرفراز اور سُرخرو مولیٰ
مجھ کو تُو روزِ آخِرت فرما
(وسائلِ بخشش ص۱۱۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد