| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
بس میں صرف اسی ایک ذات کا عابد اور پجاری بن گیا ہوں اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ پھر ان کی قوم ان سے جھگڑا کرنے لگی تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ مجھ سے خدا کے بارے میں جھگڑتے ہو؟ اس خدا نے تو مجھے ہدایت دی ہے اور میں تمہارے جھوٹے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ سن لو! بغیر میرے رب کے حکم کے تم لوگ اور تمہارے دیوتا میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ میرا رب ہر چیز کو جانتا ہے۔ کیا تم لوگ میری نصیحت کو نہیں مانو گے؟ اس واقعہ کو مختصر مگر بہت جامع الفاظ میں قرآن مجید نے یوں بیان فرمایا ہے :۔
فَلَمَّا جَنَّ عَلَیۡہِ الَّیۡلُ رَاٰکَوْکَبًا ۚ قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِیۡنَ ﴿76﴾فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنۡ لَّمْ یَہۡدِنِیۡ رَبِّیۡ لَاَکُوۡنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیۡنَ ﴿77﴾فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ہٰذَاۤ اَکْبَرُ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوۡنَ ﴿78﴾اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ حَنِیۡفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿ۚ79﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ پھر جب ان پر رات کا اندھیرا آیا ایک تارا دیکھا بولے اسے میرا رب ٹھہراتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا بولے مجھے خوش نہیں آتے ڈوبنے والے پھر جب چاند چمکتا دیکھا بولے اسے میرا رب بتاتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں بھی انہیں گمراہوں میں ہوتا پھر جب سورج جگمگاتا دیکھا بولے اسے میرا رب کہتے ہو۔ یہ تو ان سب سے بڑا ہے پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اے قوم میں بیزار ہوں ان چیزوں سے جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان و زمین بنائے ایک اسی کا ہو کر اور میں مشرکوں میں نہیں۔(پ7،الانعام:76تا79) درس ہدایت:۔غور کیجئے کہ کتنا دلکش طرزِ بیان اور کس قدر مؤثر طریقہ استدلال ہے کہ نہ کوئی سخت کلامی ہے، نہ کسی کی دل آزاری، نہ کسی کے جذبات کو ٹھیس لگا کر اس کو غصہ دلانا ہے،