| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
رات یہ خواب دیکھا کہ ایک ستارہ نکلا اور اس کی روشنی میں چاند، سورج وغیرہ سارے ستارے بے نور ہو کر رہ گئے۔ کاہنوں اور نجومیوں نے اس خواب کی یہ تعبیر دی کہ ایک فرزند ایسا ہو گا جو تیری بادشاہی کے زوال کا باعث ہو گا۔ یہ سن کر نمرود بے حد پریشان ہو گیا اور اس نے یہ حکم دے دیا کہ میرے شہر میں جو بچہ پیدا ہو وہ قتل کردیا جائے۔ اور مرد عورتوں سے جدا رہیں۔ چنانچہ ہزاروں بچے قتل کردیئے گئے۔ مگر تقدیراتِ الٰہیہ کو کون ٹال سکتا ہے؟ اسی دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہو گئے اور بادشاہ کے خوف سے ان کی والدہ نے شہر سے دور پہاڑ کے ایک غار میں ان کوچھپا دیا اسی غار میں چھپ کر ان کی والدہ روزانہ دودھ پلا دیا کرتی تھیں۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ سات برس کی عمر تک اور بعضوں نے تحریر فرمایا کہ سترہ برس تک آپ اسی غار میں پرورش پاتے رہے۔
(واللہ تعالیٰ اعلم)
( روح البیان،ج۳،ص۵۹،پ۷،الانعام:۷۵)
اس زمانے میں عام طور پر لوگ ستاروں کی پوجا کیا کرتے تھے۔ ایک رات آپ علیہ السلام نے زہرہ یا مشتری ستارہ کو دیکھا تو قوم کو توحید کی دعوت دینے کے لئے آپ نے نہایت ہی نفیس اور دل نشین انداز میں لوگوں کے سامنے اس طرح تقریر فرمائی کہ اے لوگو! کیا ستارہ میرا رب ہے؟ پھر جب وہ ستارہ ڈوب گیا تو آپ نے فرمایا کہ ڈوب جانے والوں سے میں محبت نہیں رکھتا۔ پھر اس کے بعد جب چمکتا چاند نکلا تو آپ نے فرمایا کہ کیا یہ میرا رب ہے؟ پھر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ فرماتا تو میں بھی انہیں گمراہوں میں سے ہوتا۔ پھر جب چمکتے دمکتے سورج کو دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو ان سب سے بڑا ہے، کیا یہ میرا رب ہے؟ پھر جب یہ بھی غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ اے میری قوم! میں ان تمام چیزوں سے بیزار ہوں جن کو تم لوگ خدا کا شریک ٹھہراتے ہو۔ اور میں نے اپنی ہستی کو اس ذات کی طرف متوجہ کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا ہے۔