| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
بس اپنے مقصد کو نہایت ہی حسین پیرایہ اور خوبصورت انداز میں منکرین کے سامنے دلیل کے ساتھ پیش کردینا ہے۔ ہمارے سخت گو اور تلخ زبان مقررین کے لئے اس میں ہدایت کا بہترین درس ہے۔ مولیٰ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے آمین۔
(۲۴)فرعونیوں پر لگاتار پانچ عذاب
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدہا بن کر جادوگروں کے سانپوں کو نگل گیا تو جادوگر سجدے میں گر کر ایمان لائے۔ مگر فرعون اور اس کے متبعین نے اب بھی ایمان قبول نہیں کیا۔ بلکہ فرعون کا کفر اور اس کی سرکشی اَور زیادہ بڑھ گئی اور اس نے بنی اسرائیل کے مومنین اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دل آزاری اور ایذا رسانی میں بھرپور کوشش شروع کردی اور طرح طرح سے ستانا شروع کردیا۔ فرعون کے مظالم سے تنگ دل ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداوند قدوس کے دربار میں اس طرح دعا مانگی کہ ''اے میرے رب! فرعون زمین میں بہت ہی سرکش ہو گیا ہے اور اس کی قوم نے عہد شکنی کی ہے لہٰذا تو انہیں ایسے عذابوں میں گرفتار فرمالے جو ان کے لئے سزا وار ہو۔ اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت ہو۔''
(روح البیان،ج۳،ص۲۲۰،پ۹،الاعراف:۱۳۳)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں پر لگاتار پانچ عذابوں کو مسلط فرما دیا وہ پانچوں عذاب یہ ہیں:۔ (۱)طوفان:۔ ناگہاں ایک ابر آیا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا پھر انتہائی زور دار بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ طوفان آگیا اور فرعونیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا۔ اور وہ اس میں کھڑے رہ گئے اور پانی ان کی گردنوں تک آگیا ان میں سے جو بیٹھا وہ ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔ نہ ہل سکتے تھے نہ کوئی کام کرسکتے تھے۔ ان کی کھیتیاں اور باغات طوفان کے دھاروں سے برباد ہو گئے۔ سنیچر سے سنیچر تک مسلسل سات روز تک وہ لوگ اسی مصیبت میں مبتلا رہے اور