Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
93 - 414
ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لئے عید کا دن ہو گا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جس دن قدرتِ خداوندی کا کوئی خاص نشان ظاہر ہو، اس دن خوشی منانا اور مسرت و شادمانی کا اظہار کر کے عید منانا یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مقدس سنت ہے۔

حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی رات اور اس کا دن یقینا خداوند قدوس کے ایک نشانِ اعظم کے ظہور کی رات اور دن ہے لہٰذا میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خوشی منانا اور اس تاریخ کو عید میلاد کہنا یقینا قرآن مجید کی تعلیم کے عین مطابق ہے۔ خوشی منانا، گھروں اور محفلوں کی آرائش کرنا، اچھے اچھے پکوان پکا کر خود بھی کھانا اور دوسروں کو کھلانا یہی سب عید کی نشانیاں، اور عید منانے کے طریقے ہیں جن پر بارہویں شریف کو اہل سنت و جماعت عمل کر کے عید میلاد کی خوشی مناتے ہیں اور جو لوگ اس سے چڑتے ہیں اور اس تاریخ کو اپنے گھر اندھیرا رکھتے ہیں، جھاڑو بھی نہیں لگاتے اور میلے کچیلے کپڑے پہن کر منہ لٹکائے پھرتے ہیں اور عید میلاد کی خوشی منانے والوں کو بدعتی کہہ کر پھبتیاں کستے ہیں، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہے اور اہل سنت کو چاہے کہ خوب خوب خوشی منائیں اور کثرت سے میلاد شریف کی مجلس منعقد کریں اور خوب جھوم جھوم کر صلوٰۃ و سلام پڑھیں:۔
  مثلِ فارس زلزلے ہوں نجد میں  		ذکر آیات ولادت کیجئے
                 	(حدائق بخشش، حصہ اول ص ۱۴۰ )
 (۲۳)حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اعلانِ توحید
مفسرین کا بیان ہے کہ ''نمرود بن کنعان ''بڑا جابر بادشاہ تھا۔ سب سے پہلے اسی نے تاج شاہی اپنے سر پر رکھا۔ اس سے پہلے کسی بادشاہ نے تاج نہیں پہنا تھا یہ لوگوں سے زبردستی اپنی پرستش کراتا تھا کاہن اور نجومی اس کے دربار میں بکثرت اس کے مقرب تھے۔ نمرود نے ایک
Flag Counter