| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
اللہ تعالی نے اس عجیب اور عظیم الشان وا قعہ کا تذکرہ قرآن مجید کی سورئہ مائدہ میں فرمایا ہے۔ اور اسی واقعہ کی وجہ سے اس سورہ کا نام ''مائدہ'' رکھا گیا۔ ''مائدہ'' دسترخوان کو کہتے ہیں
قَالَ عِیۡسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلْ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ ۚ وَارْزُقْنَا وَاَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿114﴾قَالَ اللہُ اِنِّیۡ مُنَزِّلُہَا عَلَیۡکُمْ ۚ فَمَنۡ یَّکْفُرْ بَعْدُ مِنۡکُمْ فَاِنِّیۡۤ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُہٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿115﴾ (پ7،المائدۃ:114،115)
ترجمہ کنزالایمان:۔ عیسیٰ بن مریم نے عرض کی اے اللہ اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لئے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ میں اسے تم پر اتارتا ہوں پھر اب جو تم میں کفر کریگا تو بے شک میں اسے وہ عذاب دوں گا کہ سارے جہان میں کسی پر نہ کروں گا۔ درس ہدایت:۔واقعہ مذکورہ سے بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ملتی ہیں۔ جن میں سے یہ دو سبق تو بہت ہی واضح ہیں:۔ (۱)حضرات انبیاء علیہم السلام کی مخالفت اور نافرمانی کتنا خوفناک جرم عظیم ہے دیکھ لو!کہ بنی اسرائیل نے جب اپنے نبی علیہ السلام کی مخالفت و نافرمانی کرتے ہوئے آسمانی دستر خوان میں خیانت کی اور کل کے لئے ذخیرہ بنا کر رکھ لیا تو عذاب ِ الٰہی نے ان کو خنزیر بندر بنا کر دنیا سے اس طرح نیست و نابود کردیا کہ ان کی قبروں کا نشان بھی باقی نہ رہا۔ جو لوگ اللہ و رسول کی امانتوں میں خیانت کرتے ہیں۔ انہیں اس ہولناک عذاب سے عبرت حاصل کرنی چاہے اور توبہ کرلینی چاہے۔
(واللہ تعالیٰ اعلم)
(۲)حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا میں یہ جملہ کہ جس دن دستر خوان نازل ہو گا وہ دن