| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس پیغمبرانہ طرزِ استدلال اور حکیمانہ گفتگو سے چاہے تو یہ تھا کہ یہ وفد اپنی نصرانیت کو چھوڑ کر دامنِ اسلام میں آجاتا مگر ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جھگڑا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ بحث و تکرار کا سلسلہ بہت دراز ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے سورہ آلِ عمران کی یہ آیت نازل فرمائی:۔
(روح البیان،ج۲،ص۴۳،پ۳،آل عمران:۵۹)
فَمَنْ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَکُمْ وَ نِسَآءَ نَا وَ نِسَآءَکُمْ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَکُمْ ۟ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ ﴿61﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔پھر اے محبوب جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آؤ ہم تم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔ (پ3،آل عمران:61) قرآن کی اس دعوتِ مباہلہ کو ابو حارثہ نے منظور کرلیا۔ اور طے پایا کہ صبح نکل کر میدان میں مباہلہ کریں گے لیکن جب ابو حارثہ نصرانیوں کے پاس پہنچا تو اس نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ اے میری قوم! تم لوگوں نے اچھی طرح جان لیا اور پہچان لیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نبی آخر الزمان ہیں اور خوب یاد رکھو کہ جو قوم کسی نبی برحق کے ساتھ مباہلہ کرتی ہے اس قوم کے چھوٹے بڑے سب ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ان سے صلح کرکے اپنے وطن کو واپس چلے چلو اور ہرگز ہرگز ان سے مباہلہ نہ کرو۔ چنانچہ صبح کو ابو حارثہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے آیا تو یہ دیکھا کہ آپ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گود میں اٹھائے ہوئے اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انگلی تھامے ہوئے ہیں اور حضرت فاطمہ و حضرت علی رضی اللہ عنہما آپ کے پیچھے چل رہے ہیں اور آپ ان لوگوں سے فرما رہے ہیں کہ