میں جب دعا کروں تو تم لوگ ''آمین''کہنا یہ منظر دیکھ کر ابو حارثہ خوف سے کانپ اٹھا اور کہنے لگا کہ اے گروہ نصاریٰ! میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان چہروں کی بدولت پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ کر چل پڑے گا۔ لہٰذا اے میری قوم!ہرگز ہرگز مباہلہ نہ کرو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور روئے زمین پر کہیں بھی کوئی نصرانی باقی نہ رہے گا۔ پھر اس نے کہا کہ اے ابو القاسم! ہم آپ سے مباہلہ نہیں کریں گے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے ہی دین پر قائم رہیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کہا کہ تم لوگ اسلام قبول کرلوتاکہ تم لوگوں کو مسلمانوں کے حقوق حاصل ہوجائیں، نصرانیوں نے اسلام قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ پھر میرے لئے تمہارے ساتھ جنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ سن کر نصرانیوں نے کہا کہ ہم لوگ عربوں سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ لہٰذا ہم اس شرط پر صلح کرتے ہیں کہ آپ ہم سے جنگ نہ کریں اور ہم کو اپنے ہی دین پر قائم رہنے دیں اور ہم بطور جزیہ آپ کو ہر سال ایک ہزار کپڑوں کے جوڑے دیتے رہیں گے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر صلح فرمائی اور ان نصرانیوں کے لئے امن و امان کا پروانہ لکھ دیا اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ نجران والوں پر ہلاکت و بربادی آن پہنچی تھی۔ مگر یہ لوگ بچ گئے اگر یہ لوگ مجھ سے مباہلہ کرتے تو مسخ ہو کر بندر اور خنزیر بن جاتے اور ان کی وادی میں ایسی آگ بھڑک اٹھتی کہ نجران کی کل آبادی یہاں تک کہ چرندے اور پرندے جل بھن کر راکھ کا ڈھیر بن جاتے اور رُوئے زمین کے تمام عیسائی سال بھر میں فنا ہوجاتے۔