حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے نہایت کریمانہ لہجے میں ان دونوں سے گفتگو فرمائی۔ اور حسب ذیل مکالمہ ہوا!
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:تم لوگ اسلام قبول کر کے اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بن جاؤ۔
ابو حارثہ : ہم لوگ پہلے ہی سے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہوچکے ہیں۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:تم لوگوں کا یہ کہنا صحیح نہیں کیونکہ تم لوگ صلیب کی پرستش کرتے ہو اور اللہ کے لئے بیٹا بتاتے ہو، اور خنزیر کھاتے ہو۔
ابو حارثہ :آپ لوگ ہمارے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں کیوں دیتے ہو؟
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:ہم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کیا کہتے ہیں
ابو حارثہ : آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بندہ کہتے ہیں حالانکہ وہ خدا کے بیٹے ہیں۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:ہاں!ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور وہ کلمۃ اللہ جو کنواری مریم کے شکم سے بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ کے حکم
سے پیدا ہوئے۔
ابو حارثہ :کیا کوئی انسان بغیر باپ کے پیدا ہوسکتا ہے؟ جب آپ لوگ یہ مانتے ہیں کہ
کوئی انسان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ نہیں تو پھر آپ لوگوں کو یہ ماننا پڑے
گا کہ اُن کا باپ اللہ تعالیٰ ہے۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:اگر کسی کا با پ کوئی انسان نہ ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا باپ خدا ہی ہو۔ خداوند تعالیٰ اگر چاہے تو بغیر باپ کے بھی آدمی پیدا ہو سکتا ہے۔
دیکھوحضرت آدم علیہ السلام کو تو بغیر ماں باپ کے اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا
فرما دیا اگر اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کردیا تو اس
میں تعجب کی کون سی بات ہے؟